بیڑ: این سی پی شرد چندر پوار کی قومی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے آج مساجوگ میں مرحوم سرپنچ سنتوش دیشمکھ اور پرلی شہر میں مرحوم مہادیو منڈے کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ اسمبلی جیتندر اوہاڈ، رکنِ پارلیمنٹ بجرنگ سونونے اور رکنِ اسمبلی سندیپ شیرساگر بھی موجود تھے۔ سپریا سولے سے گفتگو کے دوران دیشمکھ اور منڈے خاندان کے افراد آبدیدہ ہو گئے۔ سپریا سولے نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ حصول انصاف کی جدوجہد کو خود آگے بڑھائیں گی اور جب تک دیشمکھ اور منڈے خاندان کو انصاف نہیں مل جاتا تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گی۔
سپریا سولے نے کہا کہ ملک میں ہفتہ خوری جرم ہے، لیکن جب والیمیک کراڈ ہفتہ مانگ رہا تھا، تب اسے فوراً گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اس پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ حکومت کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیڑ ضلع میں اب لوگوں کو وردی کی کوئی پروا نہیں رہی۔ چند افراد بیڑ کی بدنامی کا باعث بننے ہیں۔ آپ سب مہذب اور شریف النفس لوگ ہیں، اس لیے آپ کو دھمکایا جاتا ہے۔ اب خواتین کو اس لڑائی میں آگے آنا ہوگا، اگر کوئی سامنے آئے تو ہاتھ میں بیلن اٹھائیں اور اسے سبق سکھائیں۔
سپریا سولے نے کہا کہ سنتوش دیشمکھ معاملے میں وہ وزیرِ اعلیٰ فڑنویس سے مطالبہ کریں گی کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اگر چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے، تو حکومت ریاست کو اصل حقائق کیوں نہیں بتا رہی؟ والیمیک کراڈ نے پولیس اسٹیشن جانے کی ویڈیو کیسے بنائی؟ اسے یہ ہمت کس نے دی؟ کس کے بھروسے پر وہ اتنی دیدہ دلیری کر رہا ہے؟ کرشنا آندھلے کہاں ہے؟ وہ کہاں غائب ہو گیا؟ روزانہ ہمارے فون ٹریس کیے جاتے ہیں، تو کرشنا آندھلے کو کیوں نہیں پکڑا جا رہا؟ حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ کرشنا آندھلے اور تمام ملزمان کا کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) حاصل کرنا ناگزیر ہے، اس کے بغیر انصاف نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیڑ میں طاقت اور دولت کا نشہ ختم ہونا چاہیے۔ اقتدار اور دولت ہمیشہ نہیں رہتے۔ ہمیں اس لڑائی کو سچائی کے ساتھ لڑنا ہوگا۔ جب تک ہم سب متحد ہیں، ہم مضبوطی سے مقابلہ کریں گے۔ عدالت میں کیسز کی پیروی سمیت تمام معاملات میں خود دیکھوں گی۔ جب تک آپ کو انصاف نہیں مل جاتا، میں چین سے نہیں بیٹھوں گی۔ کچھ دن پہلے ایک شخص کا سر پھوڑا گیا تھا، ہم اسے بھی انصاف دلائیں گے۔ بیڑ میں بدمعاشی ختم ہونی چاہیے، گاؤں والوں کو احتجاج نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہم آپ کی لڑائی لڑیں گے۔
سپریا سولے نے کہا کہ بجرنگ سونونے نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا تھا۔ ہم دونوں آٹھ دن پہلے وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے ملے تھے، انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں گے۔ ہم نے اس ملاقات کی کوئی تصویر نہیں ڈالی، نہ ہی کوئی بیان دیا، کیونکہ ہم نے جمہوری طریقے سے وزیرِ داخلہ سے انصاف کی درخواست کی ہے۔ اس معاملے میں چاہے پولیس افسران ہوں یا کوئی اور، جو بھی قصوروار ہو، اس کے ساتھ رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ میں سنتوش دیشمکھ کے اہلِ خانہ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گی اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکوں گی۔ اس معاملے میں جو بھی ذمہ دار ہے، اسے سزائے موت ہونی چاہیے۔ اگر مہاراشٹر کے عوام نے آپ کو اتنے بڑے پیمانے پر ووٹ دے کر اقتدار میں بھیجا ہے، اور اس کے باوجود انصاف نہیں ملتا، تو ایسی حکومت کا کیا فائدہ؟
سپریا سولے نے مزید کہا کہ سنتوش دیشمکھ کا قتل سیاست کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ مہاراشٹر کا ایک بیٹا ہم سے چھن گیا ہے۔ اس معاملے میں کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انسانیت کے ناطے ان کے اہلِ خانہ کو انصاف ملنا چاہیے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ہمیں آئین اور حقوق دیے، لیکن اس کے باوجود دیشمکھ خاندان کو 70 دن گزرنے کے بعد بھی انصاف نہیں ملا۔ گزشتہ دس دنوں میں جو واقعات پیش آئے، وہ انتہائی تکلیف دہ تھے۔ اس لیے میں اس لڑائی کو انسانیت کی بنیاد پر لڑ رہی ہوں، اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ جب تک انصاف نہیں ملے گا، میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔
سپریا سولے نے پرلی میں منڈے خاندان سے بھی تعزیتی ملاقات کی، جہاں مہادیو منڈے کے اہلِ خانہ شدتِ غم سے رو پڑے۔ مہادیو منڈے کی اہلیہ گیانیشوری منڈے نے کہا کہ ان کے شوہر کا کسی سے کوئی تنازعہ نہیں تھا، پھر بھی ان کا قتل کیوں ہوا؟ پولیس اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہی۔ 15 ماہ گزرنے کے باوجود تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس پر گیانیشوری منڈے نے افسوس کا اظہار کیا۔ اس کے بعد سپریا سولے نے بیڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نوینت کاوت سے فون پر رابطہ کیا اور منڈے قتل کیس کی پیش رفت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور تحقیقات کی ہر پیش رفت سے منڈے خاندان کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جائے۔
