محکمہ عوامی تعمیرات کی تجویز مسترد کی جائے: سنیل مانے
ممبئی: محکمہ عوامی تعمیرات کے افسران دیگر سرکاری محکموں اور مقامی خود مختار اداروں کی عمارتوں، فلائی اوورز اور سڑکوں کے منصوبوں سے حاصل ہونے والی 50 فیصد رقم آپس میں تقسیم کر رہے ہیں۔ ان افسران نے یہ رقم باقاعدہ طور پر حاصل کرنے کے لیے حکومت کو ایک سرکاری فیصلہ منظور کرنے کی تجویز دی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے ترجمان سنیل مانے نے اس تجویز کو مسترد کرنے اور رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا مطالبہ وزیر اعلیٰ دیوینڈر فڈنویس اور نائب وزیر اعلیٰ و وزیر خزانہ اجیت پوار سے کیا ہے۔ اس مطالبے کے تحت ایک تفصیلی خط ای میل کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔
سنیل مانے نے گفتگو کے دوران کہا کہ انہوں نے ثبوتوں کے ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ محکمہ عوامی تعمیرات کے افسران سرکاری منصوبوں سے غیرقانونی طور پر رقم وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کن کن افسران کا کتنا حصہ ہے، اس کی بھی مکمل تفصیل فراہم کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ محکمہ آبی ذخائر اور محکمہ فنی تعلیم میں بھی اسی طرز پر رقومات کی تقسیم کی جا رہی ہے۔ مانے نے نشاندہی کی کہ عوامی تعمیرات محکمے کی جانب سے اس تقسیم کو قانونی شکل دینے کے لیے مالیات محکمے کو تجویز بھیجی گئی ہے، حالانکہ آڈیٹر جنرل (ناگپور) کی طرف سے اس پر پہلے ہی اعتراض درج کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود ایسی تجویز کا بھیجا جانا قطعی نامناسب عمل ہے۔
سنیل مانے کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ان تینوں محکموں کو ایسی رقومات مل رہی ہیں تو یہ بجٹ سرکاری خزانے میں جمع کیا جانا چاہیے۔ ان محکموں کے افسران کو پہلے ہی سرکاری ملازمین کی حیثیت سے تنخواہوں، مہنگائی الاؤنس، سرکاری رہائش اور دیگر مراعات کی صورت میں عوامی خزانے سے مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، لہٰذا ان کے لیے الگ سے اضافی آمدنی کا انتظام کرنا غیرضروری ہے۔ مانے نے اپنے مکتوب میں وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ سے پُرزور مطالبہ کیا کہ نہ صرف یہ تجویز فوری طور پر مسترد کی جائے بلکہ سانگلی، کولہاپور اور پونے کے ساسون اسپتال کے تعمیراتی منصوبوں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں کی بھی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے کر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
