مہاتما پھولے کی دوراندیشی ہی آج کے ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد: اجیت پوار
ممبئی: نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے مہاتما جوتی راؤ پھولے کے یومِ پیدائش پر گہرے عقیدت و احترام کے ساتھ ان کے انقلابی افکار اور کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما پھولے نے ہندوستانی سماج کو جہالت، توہم پرستی، اندھی عقیدت، ذات پات، ناانصافی، بے راہ روی اور عورتوں پر مظالم جیسی سماجی برائیوں سے آزاد کرانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی اور ایک نئی سماجی بیداری کی بنیاد رکھی۔
اجیت پوار نے کہا کہ کرانتی سوریہ مہاتما پھولے نے عورتوں کے لیے ملک میں پہلی اسکول قائم کر کے تعلیم کے دروازے کھولے۔ انہوں نے تعلیمی مواقع کو عام لوگوں، کسانوں اور محنت کشوں تک پہنچا کر انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اُن کی قائم کردہ ’ستیہ شودھک‘ تحریک نے سماجی اصلاحات اور مساوات کے بیج بوئے۔ آج جس ترقی پسند، سائنسی اور مساوات پر مبنی سماج کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ مہاتما پھولے اور کرانتی جیوَتی ساوتری بائی پھولے کی دوراندیشی، قربانی اور جدوجہد کا ثمر ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ آج جب ملک کی خواتین خود اعتمادی سے ہر شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں، اہم ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس بیداری کی بنیاد مہاتما پھولے اور ساوتری بائی نے اپنے عمل اور جدوجہد سے ڈالی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاتما پھولے کا مشہور قول ہے کہ ’’علم کے بغیر عقل کا زوال، عقل کے بغیر اخلاق کا زوال، اخلاق کے بغیر ترقی کا زوال، ترقی کے بغیر دولت کا زوال اور دولت کے بغیر مزدور طبقہ پستی کا شکار ہوتا ہے۔‘‘ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کا نعرہ تھا۔
اجیت پوار نے کہا کہ آج کا سب سے بڑا خراج یہی ہوگا کہ ہم مہاتما پھولے کے نظریات کو اپنائیں، ان کی شروع کی گئی ستیہ شودھک تحریک کو آگے بڑھائیں، اور سماج سے جہالت، تعصب اور امتیازی سلوک کو جڑ سے ختم کریں۔ یہی ان عظیم مصلحین کی جدوجہد کا سچا اعتراف اور ان کی قربانیوں کا حقیقی احترام ہوگا۔