لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہیں۔
لوک سبھا انتخابات 2019 سے قبل ایک بار پھرسیاسی پارٹیاں منظرعام پرآنے لگی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلانے کے کاموں میں مصروف ہوگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت اترپردیش میں تقریباً ایک درجن سیاسی پارٹیاں سیاسی اتحاد پرزوردینے لگی
دوسری جانب مسلم سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جس طرح کے حالات پیدا ہورہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا سیاسی طورپرمتحد ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت کی قیادت کوئی بھی عالم دین کرتا ہے، جب بھی مسلمانوں کے کسی مسئلے سے متعلق بات ہوتی ہے تو یہ مسلک اورفرقے میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم جماعتوں کے رہنما خود ایک پلیٹ فارم پرجمع نہیں ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں ان کو لے کراضطراب کی کیفیت دکھنے کوملتی ہے۔
کیرالہ کی انڈین یونین مسلم لیگ نے لوک سبھا اوراسمبلی میں اپنی طاقت دکھا دی ہے، لیکن وہ بھی کیرالہ تک محدود ہے۔ اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد المسلمین اورمشرقی اترپردیش کے میں پیس پارٹی کو اگرچھوڑ دیں تو پھرکوئی بھی مسلم سیاسی پارٹی مسلمانوں کے درمیان اپنا وجود قائم رکھنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ بھی آسام میں مضبوط ہے۔ مولانا بدارالدین اجمل خود ممبرپارلیمنٹ ہیں اورآسام اسمبلی میں ان کے 13 ممبران اسمبلی ہیں۔ اگر راشٹریہ علما کونسل کی بات کریں تو دارالحکومت دہلی کے بٹلہ ہاوس انکاونٹر کے بعد وجود میں آنے والی یہ سیاسی جماعت کسی بھی محاذ پرمقبول نہیں ہوسکی ہے۔ اب ایسے حالات میں نئی نئی سیاسی جماعتیں منظرپرآنے لگی ہیں اور وہ الیکشن میں "مسلمانوں کا سودا” کرنے کےلئے پلیٹ فارم تیارکررہی ہیں۔
پیس پارٹی اتحاد میں شامل
پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹرمحمد ایوب نے نیوز 18 اردو سے ٹیلیفونک بات چیت کہا کہ اترپردیش میں پیس پارٹی پہلے سے اتحاد کا حصہ ہے اوررہے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ ایک سال قبل طے ہوگیا ہے اورہم اسی اعتبارسے لوک سبھا الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر محمد ایوب نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ اتحاد کیا جائے اورحکومت میں رہ کرمسلمانوں، مظلوموں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لئے آوازبلند کی جائے۔
انڈین یونین مسلم لیگ کی پوزیشن مستحکم
انڈین یونین مسلم لیگ نے لوک سبھا اوراسمبلی میں اپنی طاقت کا احساس بھی دلایا ہے۔ اس نے کیرالہ میں 18 سیٹیں جیت کراپنی حیثیت ثابت کی ہے۔ لوک سبھا میں اس کے دو نمائندے ہیں جبکہ راجیہ سبھا میں بھی ایک نمائندگی ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کیرالہ میں مضبوط پوزیشن میں ہے، لیکن وہ اپنی ریاست تک ہی محدود ہے۔ کیونکہ اسے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اترپردیش اور بہار جیسی ریاستوں میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔
مجلس اتحاد المسلمین کی کیا ہوگی پالیسی؟
مجلس اتحاد المسلمین کی بات کریں تو دیکھتے ہیں کہ حیدرآباد سے باہرپہلی بارقسمت آزمانے کے بعد بہت اچھا تجربہ نہیں رہا ہے۔ بہاراسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد کے سامنے لوگوں نے اسے مسترد کردیا۔ لیکن مہاراشٹراسمبلی الیکشن اور کارپوریشن الیکشن میں اس کی حیثیت کا اندازہ بخوبی ہوا ہے۔ لیکن اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بھی مجلس اتحاد المسلمین کو کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
علما کونسل کے وجود کو خطرہ
بٹلہ ہاوس انکاونٹر کے بعد وجود میں آئی راشٹریہ علما کونسل کوبھی اب اپنے وجود کا خطرہ ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اس نے بہوجن سماج پارٹی کو حمایت دی تھی، لیکن اب اسے اپنی وجود برقرارکھنے کا خطرہ ہے۔ راشٹریہ علما کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا طاہرمدنی کا کہنا ہے کہ اس وقت پورے ملک کی صورتحال کو دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کے خلاف لوگوں میں ناراضگی ہے۔ اس لئے امید کی جارہی ہے کہ ملکی سطح پر بڑے پیمانے پر ایک اتحاد ہوگا، اس لئے امید ہے کہ بڑی تبدیلی آئے گی۔