ملک کی معیشت بچانے والوں کو ہی قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے
ریزرو بینک کا ریپو ریٹ گھٹانے کا فیصلہ سرمایہ داروں کے حق میں، بچت کنندگان اور ریٹائرڈ شہریوں پر ظلم: وشواس اُتگی
ممبئی: کانگریس کے سینئر رہنما اور بینکاری امور کے ماہر وشواس اُتگی نے آج ممبئی میں پارٹی کے دفتر گاندھی بھون میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا کی حالیہ مانیٹری پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریپو ریٹ میں آدھے فیصد کی کمی محض بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کی ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے، جس کا بوجھ عام بچت کنندگان، متوسط طبقے، ریٹائرڈ ملازمین اور بزرگ شہریوں پر پڑے گا۔
وشواس اُتگی نے کہا کہ جب معیشت کی شرح نمو پہلے ہی ۶.۵ فیصد ہے اور افراطِ زر ۴ فیصد کے اندر ہے، تو پالیسی میں نرمی کی یہ جلد بازی ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک نے ریپو ریٹ ۶ فیصد سے گھٹا کر ۵.۵ فیصد کر دیا ہے، جس سے بظاہر قرضے سستے ہوں گے، لیکن درحقیقت اس کا سب سے بڑا نقصان اُن شہریوں کو ہوگا جو اپنی زندگی بھر کی بچت بینکوں میں محفوظ رکھتے ہیں اور انہی کی سودی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کیش ریزرو ریشو (CRR) کو بھی دسمبر ۲۰۲۵ تک ۴ فیصد سے گھٹا کر ۳ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے بینکنگ نظام میں تقریباً ۲.۵ لاکھ کروڑ روپے کی اضافی لیکویڈیٹی آئے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر یہ رقم محض کارپوریٹ سیکٹر کو سستے قرضوں کی صورت میں دی گئی تو اس کا فائدہ عام صارفین کو نہیں ملے گا، بلکہ ایک بار پھر مراعات یافتہ طبقہ ہی مستفید ہوگا۔
وشواس اُتگی نے کہا کہ قومی تحویل والی بینکوں میں رکھی گئی بچت کو اگرچہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن جب اُن پر ملنے والا سود افراطِ زر سے بھی کم ہو جائے، تو یہ بچتیں حقیقی معنوں میں اپنی قدر کھو دیتی ہیں۔ اُن کے مطابق ملک کے کروڑوں بزرگ شہری، ریٹائرڈ ملازمین اور محنت کش افراد اپنی ماہانہ آمدنی صرف بینک سود سے حاصل کرتے ہیں، اور جب وہی سود گھٹ جاتا ہے تو ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کو سہارا دینے والے یہی بچت کنندگان ہیں، مگر افسوس کہ انہیں بار بار قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مختلف بینکوں میں حالیہ سودی شرحوں میں کمی کی مثالیں بھی پیش کیں، جن کے مطابق سینٹرل بینک آف انڈیا نے اپنی شرح سود ۷.۵ فیصد سے گھٹا کر ۶.۸۵ فیصد کر دی ہے، بینک آف مہاراشٹرا نے ۷.۱۵ فیصد سے ۶.۵ فیصد، فیڈرل بینک نے ۷.۵ فیصد سے ۷ فیصد، اور انڈس انڈ بینک نے ۷.۲۵ فیصد سے ۷ فیصد کر دی ہے۔ وشواس اُتگی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ جمع شدہ رقوم پر ملنے والا فائدہ روز بروز گھٹتا جا رہا ہے۔
مارچ ۲۰۲۵ تک ملک میں مجموعی بینک ڈپازٹس کی مالیت ₹۲۳۴.۵ لاکھ کروڑ روپے ہو چکی ہے، جن میں میٹرو شہروں سے ₹۲۴.۸ لاکھ کروڑ، شہری علاقوں سے ₹۴۹ لاکھ کروڑ، نیم شہری علاقوں سے ₹۳۶.۲ لاکھ کروڑ اور دیہی علاقوں سے ₹۲۴.۴ لاکھ کروڑ روپے کی بچتیں شامل ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ تک بچت کھاتوں میں ₹۵۹.۷ لاکھ کروڑ، کرنٹ اکاؤنٹس میں ₹۱۸.۵ لاکھ کروڑ اور فکسڈ ڈپازٹس میں ₹۱۰۳ لاکھ کروڑ روپے موجود تھے۔ اس کے باوجود سالانہ ڈپازٹ میں اضافہ محض ۷ فیصد رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اب بچت کرنے سے کترانے لگے ہیں کیونکہ انہیں اس پر مناسب منافع نہیں مل رہا۔ وشواس اُتگی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ آخر وہ بڑے صنعتکار جو کروڑوں کے قرض لے کر فرار ہو گئے یا جنہیں بعد میں "رائٹ آف" کر دیا گیا، ان کا حساب کون دے گا؟ انہوں نے کہا کہ ایسی کثیر رقم کی واپسی نہ ہونے کے باوجود بینکوں نے ان کی قرض معافی کو "کاروباری مجبوری" کہہ کر قبول کر لیا، لیکن عام بچت کنندہ اگر ایک قسط چُکانے میں تاخیر کرے تو اس پر فوراً جرمانے لگ جاتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں وشواس اُتگی نے ریزرو بینک اور مرکزی حکومت سے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے تین اہم نکات پیش کیے: اول، بچت کنندگان اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کہاں ہے؟ دوم، بینک اور حکومت صرف بڑے قرض داروں کے فائدے کے لیے کیوں سرگرم ہیں؟ اور سوم، ملک میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا اور روزگار کے نئے مواقع کیوں پیدا نہیں ہو رہے؟ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر حکومت واقعی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اُس طبقے کا تحفظ کرنا ہوگا جس کے کندھوں پر یہ معیشت کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا جن کے کندھوں پر ملک ہے، اُنہی کے کندھوں پر بوجھ ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔
