نسیم خان کی قیادت میں عرضداشت دائر کرنے کا فیصلہ، علما و وکلا کی موجودگی میں اہم میٹنگ
ممبئی: مہاراشٹر حکومت کی جانب سے حال ہی میں مساجد میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال کے سلسلے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی طرف سے جاری کردہ نئے ہدایت نامے (ایس او پی) کو مسلم تنظیموں نے غیر قانونی، غیر آئینی اور اقلیتی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔ اس کے خلاف آج ممبئی میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا کہ اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی جائے گی۔
یہ میٹنگ کانگریس کے سینئر رہنما و سابق وزیر محمد عارف نسیم خان کی قیادت میں ساکی ناکہ، ممبئی میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف دینی و سماجی تنظیموں کے سربراہان، معروف علماء، قانونی ماہرین اور دیگر سرکردہ شخصیات شریک ہوئیں۔ اجلاس میں شامل مولانا حلیم اللہ خان قاسمی (صدر جمعیۃ العلماء مہاراشٹرا)، مولانا عبدالسلام سلفی (صدر جمعیت اہلحدیث ممبئی) اور دیگر ذمہ داران نے پولیس کے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف مذہبی آزادی پر قدغن ہے بلکہ عدالتوں کے سابقہ فیصلوں کے بھی خلاف ہے۔
نسیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایڈیشنل ڈی جی پی کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات سراسر غیر آئینی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ اور ممبئی ہائی کورٹ نے ماضی میں صرف صوتی آلودگی کی سطح کو محدود کرنے کی بات کی تھی، جبکہ حالیہ ایس او پی کے تحت مساجد سے مالکانہ حقوق، مقام کی تفصیل اور میونسپل اداروں کی منظوری طلب کی جا رہی ہے، جو کہ شرعی و آئینی لحاظ سے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائیاں کسی خاص دباؤ کے تحت کی جا رہی ہیں، جو کہ نہ صرف امتیازی ہیں بلکہ اقلیتوں کو دبانے کی منظم کوشش کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ماہر قانون ایڈوکیٹ محمد یوسف مچھالہ کی رہنمائی میں جلد ہی ممبئی ہائی کورٹ میں عرضداشت دائر کی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
مولانا حلیم اللہ خان قاسمی نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ملت کے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ اذان، نماز اور شعائر اسلام کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسالک و مکاتب فکر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد کا عملی مظاہرہ کریں۔ مولانا عبدالسلام سلفی نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات کو امت مسلمہ کے لیے آزمائش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینا ہوگا، اور فتنوں سے باہر نکلنے کے لیے ملی یکجہتی، استقامت اور صبر کی ضرورت ہے۔
اس میٹنگ میں وکلاء کریم پٹھان اور عالم خان نے عدالتوں کے سابق فیصلوں کی روشنی میں لاوڈ اسپیکر سے متعلق قانونی نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق پولیس کا جاری کردہ سرکلر عدالتی ہدایات سے متصادم ہے اور آئینی طور پر اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اجلاس میں الحاج محمد وسیم حسن، مولانا عاطف سنابلی، الحاج احسان راعین، سید ارسلان اور دیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی اور متحدہ قانونی چارہ جوئی کی حمایت کی۔ اجلاس کا اختتام مولانا نظام الدین اشرفی کی دعائیہ کلمات پر ہوا، جنہوں نے ملک میں امن، انصاف اور مسلم برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے دعا کی۔
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نسیم خان نے الزام عائد کیا کہ مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اس کے خلاف مضبوط آواز بلند کریں۔ اگر حکومت اس سرکلر کو واپس نہیں لیتی تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔