راہل گاندھی کے سوالات کا بی جے پی کی طرف سے جواب دیا جانا، انتخابی میچ فکسنگ پر مہر ثبت کرنے کے مترادف: رمیش چنیتھلا
اگر اسمبلی انتخابات میں کوئی گڑبڑی نہیں تھی، تو مارکڈواڑی میں ماک پول کیوں نہیں ہونے دیا گیا؟
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات پر لگے داغ کو مٹائیے، جمہوریت میں اعتماد قائم رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن خود آگے آ کر وضاحت دے
ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں دھوکہ دہی، بدعنوانی اور عوامی منڈیٹ کی منظم خلاف ورزی کے ذریعے جمہوریت کی کھلی پامالی کس طرح ہوئی، اس کا تفصیلی تجزیہ راہل گاندھی نے اپنے تازہ مضمون میں پیش کیا ہے۔ ان کے مدلل نکات نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کانگریس کے مہاراشٹر انچارج رمیش چنیتھلا نے کہا ہے کہ راہل گاندھی کے سوالات پر الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہیے تھا، لیکن بی جے پی کی طرف سے جواب دیا جانا اس بات کی تصدیق ہے کہ انتخابات میں ’میچ فکسنگ‘ ہوئی ہے۔
رمیش چنیتھلا نے کہا کہ مہاراشٹر میں جو کچھ ہوا، وہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک منظم اور ہوشیاری سے تیار کی گئی سازش تھی جس کا مقصد جمہوری نظام کو متاثر کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپنے انکشافات میں جو حقائق رکھے ہیں وہ نہایت ہی ہوش ربا اور چونکا دینے والے ہیں۔ مہاراشٹر جو کبھی جمہوری قدروں کی علامت مانا جاتا تھا، اب انتخابی بدعنوانی کی مثال بن کر سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی مسلسل الیکشن کمیشن سے سوالات کر رہی ہے، لیکن اب تک اس جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا۔ صرف رسمی بیانات دے کر اور قواعد بدل کر حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب چنڈی گڑھ ہائی کورٹ نے ہریانہ اسمبلی انتخابات میں CCTV فوٹیج جاری کرنے کا حکم دیا، تو الیکشن کمیشن نے ضوابط بدل کر معلومات فراہم کرنے سے انکار کیوں کیا؟ آخر یہ تبدیلی کس دباؤ کے تحت کی گئی؟
رمیش چنیتھلا نے واضح کیا کہ مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ میں سنگین چھیڑ چھاڑ کی گئی، فرضی ووٹنگ کرائی گئی اور ووٹنگ فیصد کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا۔ کئی دنوں تک حتمی ووٹنگ فیصد جاری نہ کرنا بھی اسی سازش کا حصہ تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو واضح اکثریت ملی تھی، تو صرف پانچ ماہ بعد اسمبلی انتخابات میں نتائج یکسر مختلف کیسے آ سکتے ہیں؟ یہ تضاد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معاملہ محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک بڑی چال کا نتیجہ ہے۔
چنیتھلا نے کہا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کانگریس پارٹی سچائی کو سامنے لانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات پر لگے دھبے کو مٹانے کے لیے الیکشن کمیشن کو خود آگے آ کر شفاف وضاحت دینی چاہیے، تاکہ عوام کا جمہوریت پر اعتماد بحال رہ سکے۔
راہل گاندھی کے سوالات کا جواب الیکشن کمیشن کے بجائے بی جے پی کیوں دے رہی ہے؟: ہرش وردھن سپکال
دیویندر فڑنویس کا مضمون ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ جیسا ہے، وہ رام شاستری پربھونے بننے کی کوشش نہ کریں
دیویندر فڑنویس اور بی جے پی تو خود ووٹ چوری کے فائدہ اٹھانے والے ہیں، وہ کیا جواب دیں گے؟ بی جے پی کی پالیسی ہی’جھوٹ بولو، زور سے جھوٹ بولو‘ کی ہے
چیف الیکشن افسر ایس. چوک لنگم اور کرن کلکرنی کا نارکو ٹیسٹ کرایا جائے، مہاراشٹر میں ووٹ چوری کی سچائی سامنے آ جائے گی
ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ووٹ چوری کے مسئلے پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کئی سنگین سوالات اٹھائے ہیں، مگر اصل تلملاہٹ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہو رہی ہے۔ سوالات الیکشن کمیشن سے کیے گئے تھے، جواب دینا بھی اسی کا کام ہے، لیکن جواب دینے کے لیے بی جے پی رہنما اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس آگے آ گئے۔ ان کا مضمون مضحکہ خیز ہے۔ راہل گاندھی کے مدلل سوالات کا منطقی جواب دینے کے بجائے انہوں نے تنقید کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ سخت ردعمل مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ظاہر کیا ہے۔
تلک بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کانگریس کے ریاستی صدر سپکال نے دیویندر فڑنویس کے مضمون کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور ان کا اتحاد خود اس ووٹ چوری کا براہِ راست فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ وہی لوگ جو اس ساری سازش میں شریک ہیں، اب جواب دہی کا ناٹک کر رہے ہیں۔ فڑنویس رام شاستری پربھونے کی کی کوشش نہ کریں، ان کی حکومت تو ’گھاشی رام کوتوال‘ جیسی ہے۔ ان کے جوابات سطحی اور کھوکھلے ہیں۔
سپکال نے مزید کہا کہ فڑنویس جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں۔ کبھی کہتے تھے کہ’ودربھ ریاست بنے بغیر شادی نہیں کریں گے‘، پھر کہا کہ ’اجیت پوار اور این سی پی سے کبھی اتحاد نہیں ہوگا‘، ’چھگن بھجبل جیل سے باہر نہیں آنے چاہئیں‘، ’نارائن رانے بدعنوان ہیں‘ لیکن اب یہی لوگ ان کے ساتھ حکومت میں شامل ہیں۔ اب تو صرف ’چکّی پیسنے‘ کی بات نہیں بلکہ ’مکسنگ اور فکسنگ‘ بھی ہو رہی ہے۔ وہ بدعنوان وزیروں کو کلین چٹ دینے میں بھی ماہر ہیں۔ اب تو انہوں نے الیکشن کمیشن کو بھی کلین چٹ دے دی ہے۔ اس سے شکوک مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔
سپکال نے کہا کہ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں جو بھی سوالات اٹھائے ہیں، وہ وقت کے ساتھ درست ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے چین کے خطرے کی بات کی، اور آج چین ہماری سرحدوں پر قابض ہے۔ نوٹ بندی سے جی ڈی پی گرنے کی پیش گوئی کی، اور وہ صحیح نکلی۔ کورونا کو لے کر حکومت کو خبردار کیا، لیکن بی جے پی حکومت نے نظرانداز کیا، جس کی بھاری قیمت ملک کو چکانی پڑی۔ اب جب وہ الیکشن کمیشن کے عمل پر سوال اٹھا رہے ہیں تو یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے سے جڑا مسئلہ ہے۔ ان سوالات کا جواب دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ مگر نہ تو وہ جواب دے رہا ہے، نہ سی سی ٹی وی فوٹیج دے رہا ہے، بلکہ الٹا قوانین بدل دیے گئے ہیں۔
سپکال نے مزید کہا کہ فڑنویس نے الیکشن کمیشن کی تقرری کے طریقہ کار پر تبصرہ کیا، لیکن یہ بھول گئے کہ کانگریس کے دور میں ہی ٹی. این. شیشن جیسے سخت گیر چیف الیکشن کمشنر آئے تھے جنہوں نے ضابطہ اخلاق کو مضبوطی دی۔ اب تو مودی حکومت نے چیف جسٹس کو سلیکشن کمیٹی سے نکال کر اپنے ہی وزیر کو شامل کر لیا ہے۔ فڑنویس کا مضمون محض ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی کوشش ہے، شاید دہلی کے ’آقا‘ کے حکم پر لکھا گیا ہو۔
الیکشن کمیشن کے سوالوں کے جواب میڈیا سے دینے پر تنقید کرتے ہوئے بھی سپکال نے کہا کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ کیا الیکشن کمیشن اسے نہیں مانتا؟ راہل گاندھی اور کانگریس نے جو سوالات اٹھائے ہیں، ان کا غیر جانب دار اور سچ پر مبنی جواب الیکشن کمیشن کو دینا چاہیے۔ سپکال نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ریاست کے چیف الیکشن افسر ایس. چوک لنگم اور اُس وقت کے ایڈیشنل چیف الیکشن افسر کرن کلکرنی کا نارکو ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ ووٹ چوری کا پورا سچ عوام کے سامنے آ سکے۔
سپکال نے آخر میں کہا کہ فڑنویس کہتے ہیں کہ وہ گڑچروَلی گئے تھے، لیکن وہاں کیوں؟ کیونکہ وہاں کی کانوں سے انہیں زبردست منافع حاصل ہوتا ہے، اس لیے وہ بار بار وہاں جاتے ہیں اور خود کو گڑچروَلی کا نگراں وزیر بنائے ہوئے ہیں۔ کانگریس وہیں جا کر عوام کے درمیان ووٹ چوری کے خلاف بیداری مہم چلائے گی۔