‘سرینڈر’ بیان پر سیاسی طوفان: آپریشن سندور پر راہل گاندھی کا دفاع، طارق انور کا وزیراعظم پر طنز اور سفارتی پالیسی پر سوالات

نئی دہلی، 8 جون: (آفتاب شیخ)
سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والے پوڈکاسٹ "کھری بات" میں معروف صحافی ونود اگنی ہوتری اور کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر طارق انور کے درمیان ہوئی گفتگو نے سیاسی گلیاروں میں سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ مرکزی موضوع رہا راہل گاندھی کا متنازع بیان: "ٹرمپ نے کہا رُک جاؤ، مودی جی رُک گئے" – جسے حکمراں جماعت نے فوج کی توہین قرار دیا ہے۔
راہل گاندھی کے بیان پر وضاحت:
ونود اگنی ہوتری نے راہل گاندھی کے ‘سرینڈر’ بیان کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے پوچھا کہ آیا یہ فوج کی توہین کے زمرے میں آتا ہے؟ جواب میں طارق انور نے واضح کیا کہ راہل گاندھی کا مقصد نہ تو فوج کی قربانیوں کو کم تر دکھانا تھا، نہ ان کی بہادری پر سوال اٹھانا۔ ان کا اعتراض حکومت کی خارجہ پالیسی، فیصلوں اور امریکی دباؤ میں مبینہ طور پر کیے گئے اقدام پر تھا۔ ‘سرینڈر’ ایک سوالیہ طرز کا لفظ تھا، الزام یا توہین نہیں۔
آپریشن سندور پر تنقید اور تحفظات:
طارق انور نے آپریشن سندور سے متعلق بعض حساس معلومات میڈیا یا عوام کے سامنے آپریشن سے پہلے پیش کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ ان کے مطابق، قومی سلامتی سے جڑے معاملات کو وقت سے پہلے مشتہر کرنا حکمتِ عملی اور دفاعی اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ حکومت ہند جب بین الاقوامی سطح پر وفود بھیجتی ہے تو اُن کے انتخاب کا معیار کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ محض پارٹی پر مبنی ہوتا ہے یا ان میں تجربہ، سفارتی قابلیت اور قومی مفاد کا خیال رکھا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایسے وفود کے فیصلوں میں شفافیت ہونی چاہیے۔ اور آل پارٹی وفد میں نمائندگی کا فیصلہ پارٹی کا خود کا ہونا چاہیے نہ کہ اس میں حکومت اپنی من مانی کریں۔
وزیراعظم پر طنز:
طارق انور نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ جب پہلگام جیسے سنگین حملے ہوئے، تو نہ وہ متاثرہ مقام پر گئے، نہ فوج کے جوانوں سے ملے اور نہ ہی مدھوبنی میں اپنا انتخابی جلسہ منسوخ کیا۔ اس کے برعکس، ریلوے کے ٹکٹ پر اپنی تصویر شائع کروا کر حملے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی دکھ اور ہمدردی ہوتی تو میدان میں نظر آتے، نہ کہ صرف تشہیری حکمت عملی سے کام لیتے۔
بی جے پی کے اعتراضات پر جواب:
جب ونود اگنی ہوتری نے بی جے پی ترجمانوں کے ان الزامات کا ذکر کیا کہ راہل گاندھی نے فوج کی توہین کی ہے، تو طارق انور نے کہا کہ کسی بھی بیان کو اس کے سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔ آج کی سیاست میں الفاظ کو توڑ مروڑ کر عوام کے سامنے پیش کرنا عام بات بن گئی ہے، جس سے اصل نیت چھپ جاتی ہے۔
نتیجہ:
یہ پوڈکاسٹ نہ صرف آپریشن سندور پر مبنی سیاسی و فوجی پہلوؤں کو واضح کرتا ہے بلکہ راہل گاندھی کے بیان، حکومت کی پالیسیوں اور وزیراعظم کے طرزِ عمل پر ایک سنجیدہ اور توازن پر مبنی مکالمے کی مثال بھی ہے۔ یہ اپیسوڈ طلباء، محققین اور صحافیوں کے لیے ایک فکر انگیز دستاویز بن چکا ہے۔