آچار سنہتا کی خلاف ورزی معاملے میں وزیر اعظم مودی پر کارروائی سے الیکشن کمیشن گریزاں، ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے: پُرتھوی راج چوہان

قانون سے کوئی بالاتر نہیں، اگر اندرا گاندھی اور بالا صاحب ٹھاکرے کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے تو مودی پر کیوں نہیں؟

مہاراشٹر کانگریس کی نئی عاملہ میں 66 فیصد نئے چہرے، 44 فیصد او بی سی، 19 فیصد درج فہرست ذات و قبائل کی نمائندگی: ہرش وردھن سپکال

ممبئی:30 جولائی 2025

سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر پرتھوی راج چوہان نے وزیر اعظم نریندر مودی پر 2020 میں ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (انتخابی ضابطۂ اخلاق) کی خلاف ورزی کا سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں ٹال مٹول کر رہا ہے اور مودی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور شیو سینا کے بانی بالا صاحب ٹھاکرے کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، تو نریندر مودی اس قانون سے بالاتر کیسے ہو سکتے ہیں؟ چوہان نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں عرضی دائر کریں گے۔

تِلک بھون میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہان نے بتایا کہ 28 دسمبر 2020 کو وزیر اعظم مودی، اس وقت کے وزیر ریلوے اور وزیر زراعت نے سولاپور کے سانگولا حلقے سے مغربی بنگال کے شالیمار تک چلنے والی ’کسان ریل‘ کی 100ویں ٹرین کو نہایت دھوم دھام سے روانہ کیا تھا۔ یہ پروگرام اس وقت ہوا جب مہاراشٹر میں گرام پنچایت انتخابات اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات جاری تھے۔ یہ پورا پروگرام قومی ٹی وی چینلوں پر نشر کیا گیا، جبکہ اس کے لیے الیکشن کمیشن یا ضلعی انتظامیہ سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ اس سلسلے میں پرفُل کدم نامی ایک کارکن نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی، لیکن لمبے عرصے تک تاخیر کے بعد صرف ریلوے کو وارننگ دی گئی، اور وزیر اعظم پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، حالانکہ واضح طور پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ہوئی تھی۔

چوہان نے زور دے کر کہا کہ جب آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں تو نریندر مودی کو استثنیٰ کیوں؟ شکایت کنندہ نے تمام دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ صابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا تھا، کیونکہ انتخابی عمل کے دوران عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی لوک سبھا رکنیت کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔

اسی پریس کانفرنس میں مہاراشٹر کانگریس کی نئی صوبائی عاملہ کا بھی اعلان کیا گیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے بتایا کہ نئی عاملہ میں 66 فیصد نئے چہرے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ 33 فیصد پرانے تجربہ کار رہنما موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 41 فیصد اراکین او بی سی طبقے سے، 19 فیصد درج فہرست ذات و قبائل سے، اور 33 خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیم میں سماجی اور جغرافیائی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

جب حکومت کے متنازع وزراء سے متعلق سوال پوچھا گیا تو سپکال نے طنز کیا کہ وزیر اسمبلی کے اندر تاش کھیلتے ہیں اور باہر WWF کی طرح لڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کا خاندان ڈانس بار چلاتا ہے، مگر حکومت کو کوئی پرواہ نہیں۔ کانگریس ان وزراء کے استعفے کی مانگ کو لے کر اسمبلی اور سڑکوں پر مسلسل احتجاج کر رہی ہے، لیکن حکومت کی بے حسی ’گینڈے کی کھال‘ سے بھی زیادہ سخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھننجے منڈے نے جو استعفیٰ دیا، وہ اخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی اور حزب اختلاف کے دباؤ کے سبب دیا۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ دیگر داغدار وزراء سے بھی استعفیٰ لیا جائے۔

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے کے بیان پر اٹھے تنازع پر سپکال نے کہا کہ انہوں نے نہ تو ’آپریشن سندور‘ کی توہین کی اور نہ ہی سپاہیوں کی۔ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو فوج کے شجاعت پر فخر ہے، لیکن بی جے پی اس فخر کو ووٹ بینک کی سیاست میں تبدیل کر دیتی ہے، اور مودی کی فوجی وردی میں تصویریں لگا کر فائدہ اٹھاتی ہے۔ ایک بی جے پی لیڈر نے ایک خاتون افسر کے خلاف انتہائی گھٹیا تبصرہ کیا تھا، جس کے جواب میں پرنیتی شندے نے بات کی تھی۔

اسی موضوع پر پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں راہل گاندھی نے جو سوالات اٹھائے تھے، ان کا آج تک وزیر اعظم مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 30 مرتبہ کہا کہ جنگ بندی ان کی مداخلت سے ممکن ہوئی، تو پھر مودی خاموش کیوں ہیں؟ اگر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں تو مودی تردید کیوں نہیں کرتے؟ چوہان نے مزید سوال کیا کہ آیا مرکزی حکومت نے شملہ معاہدہ ختم کر دیا ہے؟ نیز پارلیمنٹ میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے بیان پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے۔

دہشت گرد اجمل قصاب کو لے کر پبلک پراسیکیوٹر اُجول نکم کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چوہان نے کہا کہ قصاب کو موت کی سزا قانون اور عدالتی عمل کے تحت دی گئی تھی، اور وہ عمل کانگریس حکومت کے دور میں مکمل ہوا تھا۔ لہٰذا نکم کا بیان محض سیاسی مفاد کے لیے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چونکہ بی جے پی نے نکم کو راجیہ سبھا میں بھیجا ہے، اس لیے وہ اس قسم کے بے معنی بیانات دے رہے ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، سابق رکن پارلیمنٹ کمار کیتکر، سینئر ترجمان اتل لونڈھے اور اننت گاڈگل موجود تھے۔

MPCC Urdu News 30 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading