نائب وزیر اعلیٰ کی ’مین ہول سے مشین ہول‘ اسکیم کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت
ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے صفائی کارکنان کے لیے شروع کی گئی ’ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر شرم سافلیہ آواس یوجنا‘کی شرائط میں نرمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت صفائی کارکنان کو ملازمت کے دوران وفات ہونے یا ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے اہل وارث کو مالکانہ حقوق کے ساتھ مفت رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ فی الوقت یہ سہولت صرف اُن صفائی ملازمین کو دستیاب ہے جنہوں نے کم از کم 25 سال ملازمت کی ہو۔ لیکن نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے شہری ترقیات محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ اس مدت کو گھٹاکر 20 سال کیا جائے اور اس تجویز کو جلد از جلد کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے۔
اس سلسلے میں منترالیہ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے کی، جس میں صفائی ملازمین سے متعلق مسائل پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں وزیر برائے سماجی انصاف سنجے شِرساٹھ، رکن اسمبلی سنجے میشرام، رکن اسمبلی اتل بھاتکھلکر، مالیات محکمہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری او پی گپتا، ڈاکٹر راج گوپال دیورا، سماجی انصاف محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر ہرش دیپ کامبلے، نائب وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری ڈاکٹر راجیش دیشمکھ، شہری ترقیات اور سماجی انصاف محکموں کے سینئر افسران، ریاستی صفائی ملازم کمیشن کے نمائندے اور صفائی مزدور تنظیموں کے رہنما موجود تھے۔
اجلاس میں ہاتھ سے غلاظت صاف کرنے کے غیر انسانی رواج کو ختم کرنے کے لیے ’مین ہول سے مشین ہول‘ اسکیم کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ اس اسکیم کے تحت نکاسیٔ آب، سیوریج لائنز اور سیپٹک ٹینکس کی صفائی جدید مشینوں کے ذریعے کی جائے گی۔ اس کے لیے صفائی کے کاموں میں استعمال ہونے والی مشینری، جدید گاڑیاں اور ایمرجنسی صفائی یونٹس کی خریداری کی جائے گی۔ شہری ترقیات محکمہ اس اسکیم کو نافذ کر رہا ہے، جس کے لیے پہلے ہی 504 کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ مالی سال 2024–25 کے مانسون اجلاس میں مزید 100 کروڑ روپے کی منظوری دے کر 31 مارچ 2025 تک خرچ کے لیے جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔
روبوٹک یونٹس، صفائی آلات اور ایمرجنسی گاڑیوں کی خریداری کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے واضح ہدایت دی ہے کہ متعلقہ ایجنسی ان گاڑیوں کا تین سال تک نگہداشت اور مرمت کرے گی اور اسی مدت میں صفائی ملازمین کو ان گاڑیوں کے استعمال کی تربیت بھی فراہم کرے گی۔ مزید برآں، لاڈ پاگے کمیٹی کی سفارشات کے مطابق جو سرکاری فیصلہ جاری کیا گیا ہے، اس پر ریاست کی تمام میونسپل کارپوریشنوں اور نگر پریشدوں کو فوری عمل درآمد کرنا ہوگا۔ اجیت پوار نے واضح انتباہ دیا کہ جو بلدیاتی ادارے ان احکامات پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست بھر میں صفائی کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی مکمل تعداد کی تفصیلی رپورٹ ہر بلدیاتی ادارے کو شہری ترقیات محکمہ کو دینا لازمی ہوگا۔
اجیت پوار نے کہا کہ حکومت صفائی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے پُرعزم ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات صفائی ملازمین کی عزت، سلامتی اور معیارِ زندگی میں بہتری کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔