پہلگام میں300 کلومیٹر اندر گھس کر قتلِ عام کرنے والے دہشت گرد محفوظ واپس کیسے چلے گئے؟، ہَرش وردھن سپکال کا سخت سوال

امِت شاہ نے ناندیڑ اور شنکر راو چوہان کی توہین کی تو اشوک چوہان خاموش کیوں رہے؟

بی جے پی اور مسلم لیگ کا پرانا رشتہ، جناح کی پارٹی کے ساتھ جن سنگھ نے بنگال میں بنائی تھی حکومت

ناندیڑ میں کانگریس کی ’جے جوان، جے کسان، جے ہند‘ ترنگا ریلی کو زبردست عوامی پذیرائی

ناندیڑ: 28 مئی .مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہَرش وردھن سپکال نے آج ناندیڑ میں منعقدہ ایک عظیم الشان ترنگا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام میں دہشت گرد 300 کلومیٹر اندر گھس کر 26 معصوم شہریوں کا قتل کرکے واپس چلے گئے، یہ حکومت کی بدترین ناکامی ہے۔ اُن دہشت گردوں نے اتنے اندر تک رسائی کیسے حاصل کی اور وہ واپس کیسے چلے گئے؟ اس پر آج تک مرکزی وزیر داخلہ امِت شاہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سپکال نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کو حاصل کرنے کا سنہرا موقع تھا تو اچانک جنگ بندی کیوں کی گئی؟ کیا یہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا نتیجہ تھا؟

ہَرش وردھن سپکال نے کہا کہ آج نکالی گئی ’جے جوان، جے کسان، جے ہند‘ ترنگا ریلی، آپریشن سندور میں شہید ہونے والے جوانوں، 1948 کی جنگ، بھارت-پاک، چین اور کارگل جنگوں کے شہداء اور پہلگام میں قتل کیے گئے سیاحوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سپاہی سرحد پر ملک کا دفاع کرتے ہیں اور ہمارے کسان زمین جوت کر عوام کو غذا مہیا کرتے ہیں، اُن کے تئیں شکرگزاری کا اظہار ہی اس ریلی کا مقصد ہے۔

اس موقع پر کانگریس کے کئی سرکردہ رہنما موجود تھے، جن میں ریاستی نائب صدر موہن جوشی، ایم پی پروفیسر رویندر چوہان، ڈاکٹر شیوا جی کالگے، ضلعی صدر ہنومنت پاٹل بیتموگریکر، شہر صدر عبدالستار، مادھوراو پاٹل، سریش گائکواڑ اور دیگر شامل تھے۔ عوام کی زبردست تعداد نے ریلی میں شرکت کی، جو کانگریس کے لیے حوصلہ افزا رہی۔

سپکال نے امِت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تین روزہ مہاراشٹر دورے کے دوران وہ ناندیڑ بھی آئے، لیکن کسان قرض معافی، خواتین کو 2100 روپے دینے اور دو مفت سلنڈر جیسے انتخابی وعدوں پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ امریکہ کے دباؤ پر جنگ بندی کی وضاحت بھی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور امِت شاہ کو کانگریس پر انگلی اٹھانے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ کانگریس نے ملک کو آزادی دلائی، اندرا گاندھی نے پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا، لال بہادر شاستری نے ’جے جوان، جے کسان‘ کا نعرہ دیا اور گاندھی خاندان نے ملک کے لیے جانیں قربان کیں۔

سپکال نے الزام لگایا کہ بی جے پی کا مسلم لیگ سے پرانا رشتہ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیاما پرساد مکھرجی، جو بی جے پی کے نظریاتی پیش رو تھے، محمد علی جناح کی پارٹی کے ساتھ بنگال میں حکومت کا حصہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ کس نے دیا، یہ پورا دیش جانتا ہے اور بی جے پی و آر ایس ایس کا آزادی کی تحریک سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس دفاتر پر پچاس سال تک ترنگا تک نہیں لہرایا گیا۔ ایسے افراد کو قوم پرستی کا سبق پڑھانے کا کوئی حق نہیں۔

سپکال نے خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ ناندیڑ میں منعقدہ بی جے پی کی ’شَںکھ ناد سبھا‘ میں امِت شاہ نے کانگریس حکومتوں پر تنقید کی، جو شَنکر راو چوہان اور ناندیڑ کے وقار کی توہین ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب امِت شاہ ناندیڑ اور چوہان خاندان پر حملہ کر رہے تھے، تو شَنکر راو چوہان کے صاحبزادے اشوک چوہان خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ کانگریس میں ہوتے ہوئے اشوک چوہان کو ’مہاراشٹر کیسری‘ اور ان کے والد کو ’ہند کیسری‘ کہا جاتا تھا، لیکن آج ناندیڑ کا وہی وقار ماند پڑ گیا ہے۔

سپکال نے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ’شَںکھ‘ کب بجایا جاتا ہے، وہ آج ’شَںکھ ناد‘ کی بات کر رہے ہیں۔ ناندیڑ نے کبھی مہاراشٹر اور ملک کی قیادت کی تھی، لیکن آج یہاں کے لیڈر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جو افسوسناک ہے۔

بےبنیاد دھمکیاں راہُل گاندھی کو نہیں ڈرا سکتیں

کانگریس نے ان جیسے کمزوروں کو کبھی اہمیت نہیں دی: سپکال

ساورکر پر راہُل گاندھی نے جو کہا، وہی سچ مؤرخوں اور ارون شوری نے بھی کہا ہے، اب کیا تاریخ بولے گی یا دھمکیاں؟

ممبئی: 28 مئی 25

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہَرش وردھن سپکال نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہُل گاندھی کو دی جانے والی دھمکیوں کی کانگریس سخت مذمت کرتی ہے۔ ایسے ’سومیا گومیا‘ عناصر کی دھمکیوں سے راہُل گاندھی یا کانگریس پارٹی مرعوب نہیں ہوگی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ راہُل گاندھی اُس شہید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کی دادی اندرا گاندھی اور والد راجیو گاندھی نے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کیں ہیں، ایسے خاندان کا فرد کسی کھوکھلی دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔

سپکال نے کہا کہ راہُل گاندھی نے وینایک دامودر ساورکر کے خلاف کوئی نازیبا یا جھوٹا بیان نہیں دیا، بلکہ تاریخی حوالوں کی بنیاد پر اپنی رائے رکھی ہے۔ اگر ساورکر کے بارے میں تنقیدی نظر ڈالنی ہو تو صرف راہُل گاندھی کو نشانہ بنانے کی بجائے، ان تمام مؤرخین اور دانشوروں کی آراء پر بھی غور کیا جانا چاہیے جنہوں نے ساورکر کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر بی جے پی کے سینیئر لیڈر ارون شوری کا ذکر کیا، جو اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت میں وزیر تھے۔ سپکال نے کہا کہ ارون شوری نے خود ساورکر پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے، جس میں کئی تنقیدی نکات شامل ہیں۔ ایسے میں صرف راہُل گاندھی پر تنقید کرنا ایک منظم سازش ہے۔

سپکال نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ راہُل گاندھی کو دی جانے والی ہر دھمکی کا جواب کانگریس کا ہر کارکن دے گا، پارٹی پوری طرح ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایسی حرکتوں سے نہ راہُل گاندھی کی آواز دبائی جا سکتی ہے، نہ ہی کانگریس پارٹی کو اپنے نظریات سے پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہُل گاندھی کو خاموش کرا لیں گے، وہ کانگریس کے جذبۂ جدوجہد سے ناواقف ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading