ایم ایچ ٹی سی ای ٹی امتحان میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کی جائے اور
غلط سوالات کے مارکس طلباء کو دیے جائیں
کانگریس کے ریاستی صدر کی وزیراعلیٰ سے درخواست
ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے ریاستی مشترکہ امتحانات (MHT-CET) کا انعقاد 27 اپریل 2025 کو کیا، مگر اس امتحان میں ہونے والی بے قاعدگیوں نے طلباء اور والدین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ احمد نگر ضلع کے ایک امتحانی مرکز پر 50 سوالات پر مشتمل ریاضی کے پیپر میں 20 سے 25 سوالات کے جوابات میں غلط آپشنز تھے، جس پر طلباء نے شکایات کی ہیں۔ یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے، اور کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غلط سوالات کے مارکس طلباء کو دیے جائیں اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے۔
اپنے خط میں وزیراعلیٰ دیوندرا فڈنویس کو کانگریس صدر نے مزید کہا کہ ریاضی کے 50 سوالات میں 20 سے 25 سوالات کے جوابات کے آپشنز غلط تھے، جبکہ بعض سوالات میں تمام آپشنز غلط تھے۔ چونکہ طلباء کو تمام سوالات کا جواب دینا ضروری تھا، لہٰذا انہیں مجبوری میں غلط جوابات منتخب کرنے پڑے۔ طلباء نے اس بابت امتحانی مرکز میں شکایت کی تھی، مگر ان کی شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ، دیگر امتحانی مراکز سے بھی اس طرح کی شکایات موصول ہوئی ہیں، اور بعض مراکز پر سرور ڈاؤن ہونے کی بھی شکایات ہیں، لیکن امتحانی مرکز سے اس بابت کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ انجینئرنگ کے داخلہ کے لیے یہ امتحان نہایت اہم ہے، اور اگر 20 سے 25 سوالات کے جوابات غلط تھے، تو یہ طلباء کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ جب امتحان کے پیپر اور انتظامات کی ذمہ داری متعلقہ اداروں اور کمپنیوں پر ہے، تو طلباء کو ان کی غلطیوں کی سزا کیوں دی جائے؟ یہ معاملہ صرف چند سوالات کا نہیں بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا ہے۔ کانگریس صدر نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن اداروں کو امتحان کے پیپر تیار کرنے اور امتحان کے انتظامات کی ذمہ داری دی جاتی ہے، اگر وہ ان کاموں کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکتے، تو انہیں دوبارہ کسی بھی امتحان کا انتظام کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور انہیں سیاہ فہرست میں ڈال دینا چاہیے۔ ہر صورت میں طلباء کا نقصان نہیں ہونا چاہیے، اور اس کی مکمل ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور طلباء کے نقصان سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔