دہشت گردانہ حملے میں شہید افراد کے لواحقین کو شہری بہادری ایوارڈ اور سرکاری ملازمت دی جائے: سپریا سولے
ای ڈی دفتر میں آگ، فائر سیفٹی پر سوالات، پہلگام حملے پر میڈیا کے حساس رویے کی تعریف کی
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندرا پوار) کی قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے مہاراشٹر کے چھ شہریوں کے لواحقین کو یکم مئی، یومِ مہاراشٹرا کے موقع پر ’شہری بہادری ایوارڈ‘ سے نوازا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ شہداء کے اہلِ خانہ کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق سرکاری ملازمت دی کی جائے۔
ممبئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریا سولے نے خاص طور پر سنتوش جگدالے کی بیٹی آساوری جگدالے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کی تعلیم مکمل کر رہی ہیں اور انہیں سرکاری سروس میں شامل کر کے ریاست کی خدمت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے پہلگام میں بے گناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے مہاراشٹر کے سنجے لیلے، ہمنت جوشی، اتل مونے، دلیپ دیسلے، کوستبھ گنبوتے اور سنتوش جگدالے کو بے دردی سے شہید کیا، جس پر پورا ملک غمگین اور غصہ میں ہے۔ سپریا سولے نے کہا کہ یہ حملہ بھارت کی سالمیت پر حملہ ہے اور پورے ملک کے عوام کشمیر سے کنیاکماری تک متحد ہو کر اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
سپریا سولے نے شہداء کے خاندانوں کی غیر معمولی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپنے پیاروں کو کھوتے دیکھ کر بھی جس بہادری سے انہوں نے حالات کا سامنا کیا، وہ واقعی قابلِ قدر ہے۔ اسی بنیاد پر ان لواحقین کو ‘شہری بہادری ایوارڈ’ سے نوازا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ جیسے ممبئی نے بم دھماکوں کے بعد تیزی سے معمول کی زندگی بحال کی تھی، ویسے ہی کشمیر میں بھی حالات بہتر بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔
مرکزی حکومت کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریا سولے نے اعتماد ظاہر کیا کہ وہ اس حملے کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانیت کے ناطے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے۔ بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے ارکان خود حکومت پر سوالات اٹھا رہے ہیں تو انہیں یہ سوالات مرکز سے کرنے چاہئیں۔ سپریا سولے نے واضح کیا کہ فی الحال ان کی پارٹی حکومت پر تنقید نہیں کرے گی کیونکہ انہوں نے قومی مفاد میں مرکز سے تعاون کا وعدہ کیا ہے۔
ای ڈی دفتر میں آگ لگنے کے معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی لمحوں میں آگ پر قابو کیوں نہ پایا جا سکا، کیا فائر سیفٹی کے انتظامات ناکافی تھے؟ اور اگر اہم فائلیں جل گئیں تو ان کا بیک اپ موجود ہے یا نہیں؟ اگر بیک اپ موجود نہ ہو تو یہ انتہائی تشویشناک ہوگا۔ سپریا سولے نے میڈیا کی ذمہ داری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے میڈیا نے پہلگام حملے کے بعد جذبات کو بھڑکانے والے مناظر نشر نہ کر کے حساسیت کا مظاہرہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پورندر میں ہوائی اڈے کی تعمیر پر زبردستی نہ کی جائے بلکہ عوامی رضامندی سے فیصلہ کیا جائے۔ سپریا سولے نے کہا کہ منشیات کے خلاف لڑائی میں وہ حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گی اور ’ڈرگ فری مہاراشٹرا‘ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔