MPCC Urdu News 22 April 25

کانگریس پارٹی ریاست میں نکالے گی ’آئین بچاؤ‘ اور ’ہم آہنگی یاترا‘: ہرش وردھن سپکال

ناسک میں 29 اپریل کو ہم آہنگی یاترا، یکم مئی کو ہم آہنگی ستیہ گرہ، اور 4 و 5 مئی کو پربھنی میں یاترائیں منعقد ہوں گی

ریاستی عاملہ کی میٹنگ میں ہندی زبان تھوپنے اور بابا رام دیو کے ’شربت جہاد‘ بیان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

ممبئی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ہدایت پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ریاست بھر میں ’آئین بچاؤ یاترا‘ اور ’ہم آہنگی یاترا‘ کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے اطلاع دی ہے کہ 29 اپریل کو ناسک میں ہم آہنگی یاترا نکالی جائے گی، یکم مئی کو ہم آہنگی ستیہ گرہ منعقد ہوگا، جبکہ 4 اور 5 مئی کو پربھنی میں آئین بچاؤ اور ہم آہنگی یاتراؤں کا اہتمام کیا جائے گا۔

یہ اعلان تلک بھون دادَر میں منعقدہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی ریاستی عاملہ کی میٹنگ کے بعد کیا گیا، جس کی صدارت ہرش وردھن سپکال نے کی۔ اس اہم اجلاس میں کانگریس ودھان سبھا پارٹی کے لیڈر وجے وڈیٹی وار، سی ڈبلیو سی رکن اور ریاستی کارگزار صدر نسیم خان، رکن پارلیمنٹ طارق انور، آل انڈیا کانگریس کے سیکریٹری کنال چودھری، خواتین کانگریس کی ریاستی صدر سندھیا سوالاکھے، ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے، ایم ایل اے ابھجیت ونجاری، ایم ایل اے پرگیا ساوت، این ایس یو آئی کے نمائندہ عامر شیخ اور ریاستی نائب صدر ایڈووکیٹ گنیش پاٹل سمیت دیگر ذمہ داران شریک ہوئے۔

میٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی صدر سپکال نے کہا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے سال 2025 کو ’تنظیمی سال‘ قرار دیا ہے، جس کا مقصد پارٹی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور گراس روٹ سطح پر تنظیمی سرگرمیوں کو متحرک کرنا ہے۔ اس تناظر میں تمام پارٹی عہدیداران کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے میدان میں متحرک رہیں۔ ضلعی صدور کو ہر ماہ کم از کم دس دن مختلف بلاکوں میں دورے کرنا ہوں گے، احتجاجی پروگراموں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا اور کم از کم ایک رسمی اجلاس منعقد کرنا ہوگا۔ اسی طرح بلاک صدور کو ہر ماہ کم از کم آٹھ دن اپنے علاقے کے وارڈوں کا دورہ کرنا ہوگا اور ضلعی سطح کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت لازمی ہوگی۔

سپکال نے مزید کہا کہ ریاستی سطح پر مقرر عہدیداران کو ہر ماہ کم از کم چھ دن اپنے ذمہ دار اضلاع میں سرگرم رہنا ہوگا اور دو دن ریاستی دفتر میں خدمات انجام دینا ہوں گی۔ ہر ماہ کی دس تاریخ کو تمام عہدیداران کو اپنی کارکردگی کی رپورٹ ریاستی دفتر میں جمع کروانا ہوگی، جبکہ مسلسل تین میٹنگوں میں غیر حاضری کی صورت میں متعلقہ عہدیدار کو برطرف کر دیا جائے گا۔

ریاستی عاملہ کی میٹنگ میں ایک سیاسی قرارداد بھی منظور کی گئی، جس کی تفصیلات ودھان سبھا میں کانگریس پارٹی کے لیڈر وجے وڈیٹی وار نے دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہندی زبان تھوپنے کی سرکاری کوششوں کے خلاف ہر سطح پر شدید عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت دفاعی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریاستی حکومت نے زبان کمیٹی سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی، اور کمیٹی نے بھی حکومت کے اس رویے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ہندی زبان تھوپنے کی مخالفت کی ہے، جس کا کانگریس پارٹی نے خیر مقدم کیا۔ اس حوالے سے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ مہاراشٹر میں ہندی زبان کو جبراً نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میٹنگ میں رام دیو بابا کے حالیہ بیان ’شربت جہاد‘ کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ وڈیٹی وار نے کہا کہ ایسے بیانات ملک کی سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لیے دیے جا رہے ہیں، اور حکمراں جماعت سے وابستہ افراد ہی ایسے اقدامات میں ملوث ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اس بیان کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے مذمتی قرارداد منظور کی۔

مزید برآں، وڈیٹیوار نے ریاست میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں نوجوان روزگار کے شدید بحران سے دوچار ہیں، جبکہ سرکاری بھرتیوں میں مہاراشٹر کے امیدواروں کو منظم طریقے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس محکمے کی حالیہ بھرتیوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ صرف تین امیدوار مہاراشٹر سے منتخب ہوئے، جبکہ باقی زیادہ تر دوسرے ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے، اور انٹرویو لینے والے افسران بھی گجرات سے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ثبوت ہے کہ بی جے پی مہاراشٹر کو گجرات کے ماتحت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وڈیٹیوار نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے تھوپٹے خاندان کو گزشتہ چالیس برسوں میں ایم ایل اے اور وزیر کے عہدے دیے، سنگرام تھوپٹے کو تین بار ایم ایل اے بنایا گیا، اس کے باوجود اگر وہ پارٹی پر الزام عائد کر رہے ہیں تو یہ انتہائی نامناسب اور ناشکری ہے۔ ممکن ہے کہ ان کے کسی کارخانے یا کاروبار سے متعلق کسی مفاد کی بنا پر انہوں نے حکمراں جماعت کا رخ کیا ہو۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading