پر بھنی میں سومناتھ سوریہ ونشی کی موت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو کب برطرف کیا جائے گا؟: ہرش وردھن سپکال
پر بھنی معاملے میں پولیس کو کومبنگ آپریشن اور لاٹھی چارج کے احکامات کس نے دیے؟ وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
جب تک سومناتھ سوریہ ونشی کے اہل خانہ کو انصاف نہیں ملتا، کانگریس اپنی جدوجہد جاری رکھے گی
ممبئی: پر بھنی کے امبیڈکر وادی نظریات رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان سومناتھ سوریہ ونشی کی موت پولیس کے تشدد کی وجہ سے ہوئی، لیکن اسے “حادثاتی موت” قرار دے کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح ہے کہ ان کی موت پولیس حراست میں تشدد کے باعث ہوئی، لیکن حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اب عدالتی مجسٹریٹ کی رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ سومناتھ سوریہ ونشی کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی۔ تو کیا اب بھی فڑنویس حکومت جاگے گی اور متعلقہ پولیس اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں برطرف کرے گی؟ یہ سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے اٹھایا ہے۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس کے صوبائی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ پر بھنی کا واقعہ انتہائی سنگین اور انسانیت کے دامن پر سیاہ دھبہ ہے۔ پر بھنی میں آئین کی توہین کا معاملہ پولیس سنبھالنے میں ناکام رہی۔ شہر میں پرامن احتجاج جاری تھا، لیکن پولیس نے وحشیانہ لاٹھی چارج کیا، جس میں کئی لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور متعدد افراد کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ اسی دوران سومناتھ سوریہ ونشی کو بھی گرفتار کرکے بے رحمی سے پیٹا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی، لیکن حکومت نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ناگپور کے سرمائی اجلاس میں گمراہ کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ سومناتھ سوریہ ونشی کی موت دمہ کی بیماری کی وجہ سے ہوئی، جو کہ سراسر غلط معلومات ہیں۔
پر بھنی میں کومبنگ آپریشن اور لاٹھی چارج کے احکامات کس نے جاری کیے؟ آیا یہ احکامات وزارت سے دیے گئے تھے یا پولیس ڈائریکٹر جنرل کے دفتر سے؟ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے طور پر فڑنویس اس معاملے کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ایک دلت نوجوان پولیس کے تشدد میں ہلاک ہو جاتا ہے، لیکن حکومت اسے سنجیدگی سے نہیں لیتی، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی حکومت دلت مخالف ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اس واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پر بھنی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سوریہ ونشی کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں انصاف دلانے کا وعدہ کیا۔ کانگریس پارٹی اس معاملے کو اس وقت تک اٹھاتی رہے گی جب تک سومناتھ سوریہ ونشی کے اہل خانہ کو انصاف نہیں مل جاتا، ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا۔