یہ مہاراشٹربچاؤنہیں بلکہ بی جے پی بچاؤآندولن ہے: بالاصاحب تھورات

ریاست میں بی جے پی کے لیڈران کی وفاداری مہاراشٹر سے نہیں، دہلی کے لیڈران کے ساتھ ہے

ممبئی: مہاراشٹر بی جے پی کے ذریعے شروع کیا گیا مہاراشٹر بچاؤآندولن دراصل بی جے پی بچاؤآندولن ہے۔ کورونا کی اس مصیبت کے دور میں جبکہ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی کے لیڈران وکارکنان عوامی خدمت میں اپنے آپ کو پوری طرح جھونکے ہوئے ہیں، بی جے پی کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس لئے بی جے پی اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے یہ آندولن شروع کیا ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کی ہے۔

اس تعلق سے بالاصاحب تھورات نے کہا کہ دیویندرفڈنویس نے کورونا کے ابتدائی دنوں میں یہ کہا تھا کہ کورونا کی مصیبت کے دور میں کوئی سیاست نہ کی جائے اور تمام لوگ ایک ساتھ مل کر اس مصیبت کا مقابلہ کریں۔ لیکن ان کا عمل ان کے بیان کے بالکل برخلاف رہاہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ میںمدد کرنے کے بجائے پی ایم کیئرمیں مدد کی ہے۔ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ وہ مہاراشٹر کے مفاد کے لیے دہلی سے مطالبات کرتے ۔اگر وہ دہلی سے مہاراشٹر کے لیے کوئی امدادی پیکیج منظور کراتے تو ہم ان کا استقبال کرتے۔

بالاصاحب تھورات نے کہا کہ دیوندرفڈنویس اور ان کے معاونین کومہاراشٹر حکومت کے ساتھ کوئی بات نہیں کرنی ہے البتہ روز راج بھون میں جاکر گورنر سے میٹنگ کرنی ہے۔ ہم ان کی باتیں سننے کے لیے تیار ہیں، اگر ہم سے کوئی غلطی ہوتی ہے تو ہم اسے درست کرنے کے لیے تیار ہیں ، لیکن انہیں مہاراشٹر میں متنازعہ صورت حال پیدا کرنی ہے۔مصیبت کے اس دور میں مہاراشٹر حکومت کوئی حل تلاش کرے، انہیں اس بات سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ کس طرح حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو۔ سچائی یہ ہے کہ دیوندر فڈنویس کی وفاداری مہاراشٹر کے ساتھ نہیں بلکہ دہلی میں بی جے پی کے لیڈران کے ساتھ ہے۔

بالاصاحب تھورات نے یہ سوال کرتے ہوئے کہ مصیبت کے دور میں بی جے پی کے لیڈران کو سیاست کیسے سوجھتی ہے؟ کہا کہ یہ وقت سیاست کرنے کی نہیں ہے۔ اس کے لیے ہم سب کے پاس زندگی پڑی ہوئی ہے۔ مصیبت کے اس دور میں بی جے پی کی ان حرکتوں کو مہاراشٹر دروہ ہی قرار دیا جائے گا۔مہاراشٹر کی عوام کو حکومت کے کاموں سے بخوبی واقفیت ہے۔ وزیراعلیٰ ریاست کو رونا کی مصیبت سے نجات دلانے کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر لڑ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں بی جے پی کے ذریعے شروع کی گئی گھٹیا سیاست کو عوام کبھی قبول نہیں کریں گے، اس کی مذمت کریں گے اور اسے سبق سکھائیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading