ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کی توہین کے گناہ کو چھپانے کے لیے بی جے پی کا جھوٹا بیانیہ: نانا پٹولے

ناگپور: اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر پارلیمنٹ کے دروازے پر بدتمیزی کرنے کا کوئی ویڈیو موجود نہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھارت کے آئین کے معمار ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی توہین کی ہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بی جے پی نے ڈاکٹر امبیڈکر کے خلاف اپنی اصلی سوچ کو ظاہر کر دیا ہے۔ بی جے پی اب اس گناہ کو چھپانے کے لیے راہل گاندھی کے خلاف جھوٹی کہانی بنا کر پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔ یہ سخت الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے لگایا ہے۔

ودھان بھون کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ حکمراں بی جے پی نے لوک سبھا کو ایک اکھاڑا بنا دیا ہے۔ حکمران جماعت پارلیمنٹ میں بحث ہونے نہیں دیتی۔ کانگریس کے دو اہم رہنما ملک کی یکجہتی کے لیے شہید ہو چکے ہیں، لیکن بی جے پی نے ملک کو صرف اڈانی کے ہاتھ بیچنے کا کام کیا ہے۔ حکومت اڈانی کو بچانے کے لیے ڈرامے کر رہی ہے۔ مودی اور اڈانی کے درمیان کیا تعلقات ہیں، یہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ کانگریس نے اڈانی کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں بی جے پی نے راہل گاندھی اور کانگریس کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے قصے بنائے۔ راہل گاندھی سے نریندر مودی کی خوفزدگی اس صورتحال سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے اس بیان پر کہ بھارت جوڑو یاترا میں نکسل وادی خیالات رکھنے والی تنظیمیں شامل تھیں، نانا پٹولے نے کہا کہ جب راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا مہاراشٹر میں آئی، تب فڑنویس ہی ریاست کے وزیر داخلہ تھے۔ اگر ان کے پاس ایسی کوئی معلومات تھیں، تو انہیں اس وقت کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ کارروائی نہ کرنا کیا ان کی نااہلی کو ظاہر نہیں کرتا؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ راہل گاندھی اور بھارت جوڑو یاترا کی مقبولیت بی جے پی سے برداشت نہیں ہو رہی، اسی لیے اس قسم کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے غنڈوں کی جانب سے ممبئی میں کانگریس کے دفتر پر حملے کی مذمت میں کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی کے اراکین اسمبلی نے ودھان بھون کے احاطے میں زبردست نعرے بازی کی اور بی جے پی کی غنڈہ گردی کی مذمت کی۔

دریں اثنا نانا پٹولے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو مکتوب لکھ کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ بھارت جوڑو یاترا میں شامل اربن نکسل تنظیموں اور ان کے سربراہوں کی فہرست فراہم کریں۔ وزیراعلیٰ کو بھیجے گئے اپنے خط میں نانا پٹولے نے کہا ہے کہ مہاراشٹر، جو ہمیشہ سے ایک ترقی پسند ریاست رہا ہے، یہاں کئی سماجی تنظیمیں برسوں سے سماج کی خدمت کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں ریاست کے غریب اور عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں اور ملک و ریاست میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ بھارت جوڑو یاترا میں ان ہی سماجی تنظیموں کے ساتھ مختلف دانشور، بزرگ شہری، اور سماجی کارکن بھی شریک ہوئے تھے۔

پٹولے نے خط میں لکھا ہے کہ ایسی تنظیموں کو ریاست کے وزیراعلیٰ کی جانب سے نکسل وادی کہنا نہایت غلط ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کو جن تنظیموں نے براہ راست یا بالواسطہ مدد فراہم کی، ان کا ذکر کرتے ہوئے ان پر نکسل وادی ہونے کا الزام عائد کرنا ناقابل قبول ہے۔ وزیراعلیٰ فڈنویس کو چاہیے کہ وہ ان تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کی مکمل فہرست فراہم کریں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ حکومت کے الزامات میں کتنا وزن ہے۔ واضح رہے کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق صدر اور رکن پارلیمان راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں شامل مختلف تنظیموں پر ریاست اور جمہوریت کے خلاف کام کرنے اور اربن نکسل ازم کو فروغ دینے کا الزام وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ودھان منڈل میں گورنر کے خطاب پر بحث کے دوران لگایا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading