اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا جائے: ہرش وردھن سپکال
رشتہ داروں کے انتخابی پروپیگنڈے میں ملوث اسمبلی دفتر کے افسران و ملازمین پر بھی کارروائی کا مطالبہ
ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر راہل نارویکر کی جانب سے نامزدگی داخل کرنے کے دوران اپوزیشن امیدواروں کو مبینہ طور پر دھمکانے کا واقعہ نہایت سنگین اور تشویشناک ہے۔ یہ عمل نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس بنیاد پر راہل نارویکر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے۔ ساتھ ہی اسمبلی اسپیکر کے دفتر سے وابستہ تقریباً 70 افسران اور ملازمین، جو نارویکر کے رشتہ دار امیدواروں کے انتخابی پروپیگنڈے میں سرگرم پائے گئے ہیں، ان سب کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے اس سلسلے میں ریاستی انتخابی کمشنر دنیش واگھمارے کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ ممبئی کے قلابہ اسمبلی حلقے کے وارڈ نمبر 225، 226 اور 227 سے راہل نارویکر کے قریبی رشتہ دار بھائی مکرند نارویکر، بہن گورووی شیولکر اور بھابھی ہرشدہ نارویکر نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے نامزدگیاں داخل کیں۔ اس موقع پر خود اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کی موجودگی نے انتخابی عمل کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ شام تقریباً پانچ بجے نامزدگی کے عمل کے دوران، راہل نارویکر نے پولیس کے ذریعے اپوزیشن پارٹیوں کے امیدواروں کو دھمکایا، انہیں خوفزدہ کیا گیا اور نامزدگیاں داخل کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ ایک اہم آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے اس طرح کی مداخلت جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی اور انتخابی عمل میں کھلی رکاوٹ کے مترادف ہے۔ اس معاملے میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد، منصفانہ اور بے خوف ماحول میں انتخابات کا انعقاد انتخابی کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر موجودہ انتخابات میں اپوزیشن امیدواروں پر ہر طرح کا دباؤ ڈالے جانے اور انہیں نامزدگیاں واپس لینے پر مجبور کیے جانے کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسمبلی کے موجودہ اسپیکر نے مبینہ طور پر انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر اپوزیشن امیدواروں کی نامزدگیاں منظور نہ ہونے دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے قانون کو بالائے طاق رکھ کر جبر کا رویہ اختیار کرنا دراصل جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔ مہاراشٹر میں قانون کی حکمرانی اور انتخابی کمیشن کی غیر جانبداری کو مضبوط کارروائی کے ذریعے ثابت کیا جانا چاہیے۔ کانگریس پارٹی اس معاملے میں کسی بھی قسم کی رعایت قبول نہیں کرے گی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔