اب شاہ رخ خان کے پیچھے پڑ گئے؛ رام بھدراچاریہ سے لے کر بابا باگیشور تک کئی مذہبی رہنماؤں کی برہمی؛ آخر معاملہ کیا ہے

ممبئی: بالی وُڈ کے ’کنگ‘ اداکار شاہ رخ خان انڈین پریمیئر لیگ (IPL) میں اپنی ٹیم کولکاتا نائٹ رائیڈرز (KKR) کی وجہ سے ایک بڑے تنازع میں گھر گئے ہیں۔ اتر پردیش کے بی جے پی لیڈر اور سردھان کے سابق ایم ایل اے سنگیت سنگھ سوم نے کے کے آر ٹیم میں بنگلہ دیشی تیز گیند باز مستفیض الرحمٰن کو شامل کیے جانے پر شاہ رخ خان پر شدید تنقید کی ہے۔

صرف یہی نہیں، بلکہ سنگیت سوم نے یہاں تک کہہ دیا کہ شاہ رخ خان کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ شاہ رخ کے ساتھ کے کے آر فرنچائز کی شریک مالک اداکارہ جوہی چاولہ اور ان کے شوہر جے مہتا بھی ہیں۔ اس ٹیم میں شاہ رخ خان کی 55 فیصد جبکہ جوہی چاولہ اور جے مہتا کی مجموعی 45 فیصد شراکت داری ہے۔

سنگیت سوم کی جانب سے شاہ رخ خان کو ’غدار‘ اور ’دیش دروہی‘ کہے جانے کے بعد اس تنازع میں جگدگرو سوامی رام بھدراچاریہ، بابا باگیشور اور دیوکی نندن جیسے مذہبی رہنماؤں نے بھی مداخلت کی ہے۔ آخر یہ تنازع کیا ہے اور شاہ رخ خان سب کے نشانے پر کیوں آ گئے ہیں؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔

ایک طرف بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے قتل کے واقعات ہو رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب آئی پی ایل کی نیلامی میں وہاں کے کرکٹ کھلاڑیوں کو کھلے عام خریدا جا رہا ہے۔ شاہ رخ خان نے 9 کروڑ روپے خرچ کر کے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو خریدا ہے۔

سنگیت سوم نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں اور وزیر اعظم کو گالیاں دی جاتی ہیں، لیکن شاہ رخ جیسے ’دیش دروہی‘ نو کروڑ روپے خرچ کر کے ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ’’اسے اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے‘‘، ایسے سخت الفاظ میں انہوں نے میرٹھ میں ایک عوامی پروگرام کے دوران شاہ رخ خان پر تنقید کی۔

انہوں نے مزید دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر مستفیض الرحمٰن آئی پی ایل میں کے کے آر کی جانب سے کھیلنے کے لیے بھارت آتے ہیں تو انہیں سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے اور انہیں ہوائی اڈے سے باہر قدم تک نہیں رکھنے دیا جائے گا۔

۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading