ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعے بی جے پی حکومت عوام کو لوٹ رہی ہے: ناناپٹولے
مودی بھکتی کی پٹی آنکھوں پر باندھنے کی وجہ سے بی جے پی لیڈران کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نظر نہیں آرہا ہے: تھورات
ایندھن کی قیمتوں کے اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر سمیت وزراء وممبران اسمبلی سائیکل سے ودھان بھون پہونچے
ممبئی: پٹرول وڈیژل پر آبکاری ٹیکس عائد کرکے عوام کی محنت کی کمائی کومرکز کی بی جے پی حکومت لوٹ رہی ہے۔یہ حکومت عوام کولوٹنے والی حکومت ہے جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کی ہے۔ واضح رہے کہ آج ریاستی کانگریس کے صدر کے ساتھ کانگریس کے تمام وزراء وممبران اسمبلی نے بابائے قوم مہاتماگاندھی کے مجسمے کو گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سائیکل سے ودھان بھون گئے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدر ناناپٹولے نے کہا کہ مرکزکی مودی حکومت نے پٹرول،ڈیژل اور کوکنگ گیس کے سیلنڈروں کی قیمت میں اضافہ کرکے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں جبکہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت نہایت کم ہے، مرکزی حکومت ایندھن پر ٹیکس بڑھا کر عوام کولوٹ رہی ہے۔ روڈ ڈولپمنٹ سیس جو یو پی اے کے دورِ حکومت میں ۴ روپئے تھا وہ بی جے پی حکومت نے بڑھا کر 18روپئے کردیا ہے۔ پٹرولیم پر عائد ٹیکسیس کو اگر ہٹا دیا جائے تو پٹرول کی قیمت آج کی تاریخ میں 32روپئے72پیسے فی لیٹر اورڈیژل کی قیمت33روپئے46پیسے ہوجائے گی۔ لیکن مودی حکومت نے ڈیژل پر820فیصد اور پٹرول پر258فیصد ٹیکس لگا کر پٹرول کی قیمت 100روپئے تک اور ڈیژل کی قیمت 90روپئے تک پہونچادیا ہے جبکہ ممبئی میں پاور پٹرول کی قیمت 100سے متجاوز ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا ایل پی جی سیلنڈر کی قیمت بڑھا کر 825روپئے کردیا گیا ہے جس کے خلاف عوام میں زبردست ناراضگی وبے چینی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے میں مودی حکومت نے تمام حدوں کو پار کردیا ہے۔ مرکزی پٹرولیم وزیر دھرمیندر پردھان نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کے زخموں کے نمک چھڑکا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سردی کی وجہ سے ہوا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت ایندھن کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ فوری طور پر واپس لے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران2014سے قبل ایندھن کی قیمتوں کے خلاف بہت چیخ چلارہے تھے، آج وہی لیڈران نریندرمودی کی سربراہی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ روزآنہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کی جیب کے پیسے ناحق طریقے سے لوٹے جارہے ہیں۔ مودی سرکار کو عوام کی آوازنہیں سنائی دیتی، اس کے بہرے پن کا علاج کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آج سائیکل ریلی نکال کر مودی حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لے۔ عوام کے احساس کو حکومت تک پہونچانے کی ہماری کوشش ہے۔ مرکزی حکومت کو اس کانوٹس لینا چاہیے وگرنہ یہ صورت حال مزید سنگین ہوجائے گی۔
اس سائیکل ریلی میں ریاستی صدر و وزیرمحصول کے ساتھ وزیرتعمیرات اشوک چوہان، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، بازآبادکاری کے وزیر وجیئے ویڈیٹی وار، وزیرٹیکسٹائل اسلم شیخ، خواتین واطفال کے بہبود کی وزیر یشومتی ٹھاکور، وزیرتعلیم ورشا گائیکواڑ، ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، ریاستی وزیر ستیج پاٹل، ریاستی وزیر ویشواجیت کدم، قانون ساز کونسل میں کانگریس کے لیڈر شرد رنپسے، سابق وزیر وریاستی کانگریس کے کارگزار صدر عارف نسیم خان، ایم ایل اے کنال پاٹل، ایم ایل اے پرنیتی شندے، ایم ایل اے امیت جھنک، ایم ایل اے دھیرج دیشمکھ، ایم ایل اے ہیرامن کھوسکر، ایم ایل اے لہو کانڈے، ایم ایل اے ڈاکٹر سدھیر تانمبے، ایم ایل اے پرتبھا دھانورکر، ایم ایل اے سلبھا کھوڈکے، ایم ایل اے موہن راؤ ہمبرڈے، ایم ایل اے سبھاش دھوٹے، ایم ایل اے راجو پاروے، ایم ایل اے راجو آولے، ایم ایل اے شریش نائیک، ایم ایل اے رتوراج پاٹل، ایم ایل اے جینت آسگاؤنکر، ریاستی جنرل سکریٹری رام کشن اوجھا، ریاستی ترجمان ڈاکٹر راجو واگھمارے، اتل لونڈھے، ڈاکٹر سنجیے لاکھے پاٹل، سکریٹری راجارام دیشمکھ سمیت کانگریس کے دیگر عہدیدارن ووزراء شریک تھے۔
’چت بھی میری اور پٹ بھی میری‘
سنجئے راٹھوڑ کے معاملے میں بی جے پی دوہرا رویہ اجاگر: سچن ساونت
ممبئی: وزیرجنگلات سنجئے راٹھوڑ کے استعفیٰ کو مہاوکاس اگھاڑی کی جانب سے وزیراعلیٰ نے منظور کرلیا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس کا موقف یہ ہے کہ اس کیباریک بینی سے تفتیش ہونی چاہیے اور جو مجرم ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن بی جے پی کا اس معاملے میں دوہرا رویہ سامنے آیا ہے۔ بی جے پی کے مطابق چِت بھی میری اور پَٹ بھی میری ہے۔ یہ باتیں کہتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے آج یہاں بی جے پی پر سوالات کی یلغار کردی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سنجئے راٹھوڑ کے استعفی کا مطالبہ کرنے والی بی جے پی کیا اس کا جواب دے گی کہ عصمت دری کے ملزم نہال چند کا مودی نے استعفیٰ کیوں نہیں لیا نیز گجرات میں ا یک خاتون کی جنسی زیادتی کے معاملے کے آڈیو ٹیپ کا معاملہ بی جے پی نے کیوں دبادیا؟۔سچن ساونت یہاں پارٹی کے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین پر زیادتی و عصمت دری کے معاملے میں بی جے پی کی بے حسی اور دوہرا رویہ بیشتر معاملات میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014میں عصمت دری کے ملزم نہال چند کو مودی نے اپنی کابینہ میں شامل کیا اور الزام کے باوجود ان کا استعفیٰ تک نہیں لیا۔ اس کا جواب بی جے پی کو دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سنجئے راٹھوڑ معاملے میں آڈیو ٹیپ پر ہنگامہ مچانے والے بی جے پی لیڈران نے گجرات میں زیادتی کی شکار پولیس کی نگرانی والی ایک خاتون کے آڈیو ٹیپ کو کیوں دبادیا؟ اس معاملے میں ایک وزیر کے حکم پر گجرات کے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ نے اس خاتون کی جاسوسی کی تھی کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کرتی ہے۔ اس موقع پر لیک ہونے والے آڈیو ٹیپ میں پولیس اور ایک وزیر کی بات چیت سامنے آئی تھی۔ اس بات چیت میں خاتون، پولیس اور وزیر کے ساتھ ایک ’صاحب‘ کی شمولیت بھی سامنے آئی تھی۔ وہ صاحب کون تھے؟ یہ آج تک ظاہر نہیں ہوسکا۔ اس آڈیو ٹیپ کی تفتیش کا مطالبہ حزبِ اختلاف نے کیا تھاتو گجرات حکومت نے جواب دیا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش کا مطالبہ مذکورہ خاتون یا اس کے کسی رشتہ دار نے نہیں کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس موقع پر اس وزیر کا استعفیٰ کیوں نہیں لیا گیا؟ کیا مذکورہ خاتون واس کے والدین پر پولیس کا دباؤ نہیں تھا؟ ان سوالوں کے جواب بی جے پی کو دینا چاہیے۔ کیا بی جے پی میں اس معاملے کی ازسرِ نوتفتیش کرانے کی اخلاقی جرأت ہے؟
سچن ساونت نے کہا کہ راجستھان میں کانگریس حکومت گرانے کی کوشش کرنے والے بی جے پی کے ایک وزیر کا آڈیو ٹیپ سامنے آیا تھا۔ اس آڈیو ٹیپ میں وہ وزیر علانیہ طور پر ممبرانِ اسمبلی کو رشوت دینے کی کوشش کررہا تھا۔ جب اس آڈیو ٹیپ کی تفتیش کا مطالبہ ہوا تو اس وزیر نے اپنی آواز کا نمونہ نہیں دیا اور یہ کہہ دیا کہ وہ ٹیپ ہی جعلی ہے۔ بی جے پی کا دوغلاپن اجاگر کرتے ہوئے سچن ساونت نے مزید کہا کہ چتراواگھ کے شوہر کشور واگھ کی تفتیش سابقہ فڈنویس حکومت نے شروع کی تھی، لیکن اب جبکہ مقدمہ درج ہوا ہے تو بی جے پی یہ الزام عائد کررہی ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت انہیں پریشان کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔ لیکن ایکناتھ کھڑسے پر اے سی بی کی تفتیش کے باوجود فڈنویس حکومت نے انہیں کلین چٹ دیدیا تھا۔ اب جبکہ وہ این سی پی میں ہیں تو مودی حکومت ان کے خلاف ای ڈی کو لگادیا ہے، کیا یہ انصاف پرمبنی ہے؟ ساونت نے کہا کہ عصمت دری کے ملزمین کی پشت پناہی کرنے والے بی جے پی لیڈران کا رویہ ملک کی عوام نے کٹھوعہ، اناؤ وہاتھرس معاملے میں بخوبی دیکھ لیا ہے۔ عصمت دری کے الزام میں جیل میں بند بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر سے ملاقات کرنے کے لیے ساکشی مہاراج گئے تھے۔ اس معاملے میں انصاف طلب کرنے والی متاثرہ خاتون کو وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ کی رہائش گاہ کے سامنے خودسوزی کی کوشش کرنی پڑی اور اس کے والدین کو مارڈالا گیا۔ چنمیانند کے معاملے میں متاثرہ لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس لیے بی جے پی کو خواتین کے مظالم پر بولنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہتا ہے۔ بی جے پی نے اس طر ح کے معاملات میں ہمیشہ دوہرا رویہ اپنایا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔