MPCC Urdu News 19 March 25

مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تنزلی کی راہ پر: اتل لونڈھے

ہندوستان کی برآمدات میں شدید کمی، امریکہ کے دباؤ کے سامنے مودی حکومت کی پسپائی، ای وی پر ٹیکس 115 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کیا گیا

صنعت کاروں کے 16 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے معاف، کسانوں اور بے روزگاروں کو نظر انداز، حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لیے اورنگزیب کی قبر کا مسئلہ اٹھایا گیا

ممبئی: ملک میں اس وقت اورنگزیب کی قبر کے معاملے پر ماحول کو گرمایا جا رہا ہے، اور آئندہ بھی تاریخ کے ایسے ہی معاملات کو اٹھایا جائے گا کیونکہ حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے اور عوام کی اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ کہ دنیا میں بھارت کی گونج ہے، بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے۔ ایسے ممالک جہاں مذہبی معاملات پر تنازعات پیدا کیے جاتے ہیں، وہاں سرمایہ کاری نہیں آتی اور بھارت کی بھی آج یہی حالت ہے۔ یہ الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اتل لونڈھے نے لگایا ہے۔

اس سلسلے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ ملک کے کسانوں پر 11 لاکھ کروڑ روپے کا قرضہ ہے اور حکومت کے پاس اسے معاف کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، مگر آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 10 سالوں میں صنعت کاروں کے 16.35 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے بی جے پی حکومت نے معاف کیے ہیں۔ کسانوں کے قرضے سے تقریباً 5.35 لاکھ کروڑ روپے زیادہ قرضے معاف کیے گئے۔ دراصل یہ قرضہ 29 لاکھ کروڑ روپے کا ہے اور اسے بھی آہستہ آہستہ معاف کیا جائے گا۔ کسانوں اور بے روزگاروں نے آخر حکومت کا کیا بگاڑا ہے کہ بی جے پی حکومت ان کی مشکلات کو بڑھا رہی ہے؟

انہوں نے بھارت کی درآمدات اور برآمدات پر بھی تبصرہ کیا۔ وزارت تجارت و صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق اس سہ ماہی میں گزشتہ تین سالوں کے مقابلے میں برآمدات میں 10.9 فیصد کی کمی آئی ہے، جبکہ درآمدات بھی کم ہوئی ہیں۔ بھارت 87 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے جو کہ اب سستا ہو چکا ہے، مگر پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔ بی جے پی حکومت نے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی اور مختلف سیس لگا کر عوام سے 36 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کی ہے۔

یو پی اے حکومت کے دوران ایکسائز ڈیوٹی 9 روپے تھی، جسے بی جے پی حکومت نے بڑھا کر 32 روپے کر دیا۔ روڈ ٹیکس 1 روپے سے بڑھا کر 18 روپے کر دیا گیا۔ جب خام تیل کی قیمت 112 ڈالر تھی، تو بی جے پی 35 روپے میں پیٹرول کی مانگ کر رہی تھی، مگر اب عوام کی جیب سے پیسہ نکالا جا رہا ہے۔ اسکول کی اشیاء اور شمشان کی لکڑی پر بھی جی ایس ٹی لگا کر عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔

روس بھارت کو 50 ڈالر میں خام تیل دے رہا تھا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو امریکی تیل لینے پر مجبور کیا۔ ٹرمپ نے ایف-16 طیارے خریدنے کے لیے بھی بھارت کو مجبور کیا، جسے ایلن مسک نے “کھٹارا” کہا تھا۔ بھارت نے اگر ٹیکس لگایا، تو امریکہ نے دوگنا ٹیکس لگانے کی دھمکی دی۔ امریکہ بھارت کی مارکیٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اسی لیے الیکٹرک گاڑیوں پر 115 فیصد ٹیکس کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ چین، ویتنام اور بنگلہ دیش بھارت سے آگے نکل چکے ہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، سائنسی سوچ ہوتی ہے، تحقیق اور ترقی پر زور ہوتا ہے، وہاں دنیا سرمایہ کاری کرتی ہے۔ مذہب کے نام پر لڑنے والے ممالک میں سرمایہ کاری نہیں آتی، اور یہی حال بھارت کا بھی ہو چکا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading