’میں مارنے کا ڈرامہ کرتا ہوں، تم رونے کا ڈرامہ کرو‘
ہندی زبان کے تنازعے کے پیچھے راج ٹھاکرے اور دیویندر فڑنویس کی ملی بھگت ہے: نانا پٹولے
ممبئی: 19 جون 2025
مہاراشٹر میں اس وقت کئی سنگین عوامی مسائل موجود ہیں، لیکن ان پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہندی زبان کا تنازعہ جان بوجھ کر کھڑا کیا گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق ریاستی صدر نانا پٹولے نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندی زبان سے متعلق متنازعہ سرکاری حکم نامہ (جی آر) اُس وقت جاری کیا گیا جب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے مہاراشٹرا نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے سے ملاقات کی۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی اور سیاسی سازش ہے، جس کے پیچھے فڑنویس اور راج ٹھاکرے دونوں کی ملی بھگت شامل ہے۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست میں کسانوں کی فصلیں بے وقت بارش کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہیں، اور ہر طرف سے قرض معافی کی مانگ کی جا رہی ہے۔ اسی طرح عوام یہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ خواتین کو 2100 روپے کی مالی امداد دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیروزگاری اور مہنگائی بھی اپنے عروج پر ہے اور عوام میں حکومت کے خلاف زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔ حکومت نہ ان مسائل کا حل نکال پا رہی ہے اور نہ ہی اس کے پاس مالی وسائل موجود ہیں، اس لیے یہ ہندی زبان کا مسئلہ جان بوجھ کر اچھالا گیا تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
نانا پٹولے نے الزام لگایا کہ اس پورے معاملے کا تعلیمی نظام یا طلبہ کے تعلیمی مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے خالص سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی ممبئی میونسپل کارپوریشن سمیت ریاست کی دیگر میونسپلٹیوں، ضلع پریشدوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات متوقع ہیں اور اسی سیاسی پس منظر میں یہ تنازعہ سامنے لایا گیا ہے تاکہ رائے دہندگان کو تقسیم کیا جا سکے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ایم این ایس کو سیاسی فائدہ حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ مارٹھي زبان اور ثقافت کی حفاظت ضروری ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ابتدائی تعلیم میں طلبہ پر ہندی زبان کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے، اس پر کسی کو اختلاف نہیں۔ لیکن جب چند دن پہلے ہی حکومت نے کہا تھا کہ ہندی پہلی جماعت سے لازمی نہیں بنائی جائے گی، تو پھر راج ٹھاکرے سے ملاقات کے فوراً بعد ایسا متنازعہ جی آر کیوں جاری کیا گیا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ بی جے پی اور ایم این ایس کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچایا جا سکے۔ نانا پٹولے نے اس پورے عمل کو ’میں مارنے کا ڈرامہ کرتا ہوں، تم رونے کا ڈرامہ کرو‘ جیسا ایک سیاسی کھیل قرار دیا۔
MPCC Urdu News 19 June 25.docx