نتیش رانے کی جانب سے ریاست میں قانون، امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا عمل: ہرش وردھن سپکال
فڈنویس حکومت پر سخت تنقید، معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!
کیا حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لیے اورنگزیب کی قبر یاد آئی ہے؟
نئی دہلی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ریاستی وزیر نیتیش رانے پر ریاست میں قانون اور امن و امان کو خراب کرنے اور سماجی کشیدگی پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دوسروں کا گھر جلانے نکلے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا اپنا گھر بھی جل رہا ہے۔ اورنگزیب کی قبر ان لوگوں کو کیوں یاد آ رہی ہے؟ کیا حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے؟
دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ میں نے جو بات نہیں کہی، اس کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ میں نے دیویندر فڈنویس کی ذاتی حیثیت کو اورنگزیب سے نہیں جوڑا، بلکہ ان کے طرزِ حکومت کا موازنہ کیا ہے۔ سنتوش دیشمکھ کے قتل، سوارگیٹ میں عصمت دری، مرکزی وزیر کی بیٹی سے چھیڑچھاڑ اور بڑھتے ہوئے خواتین پر مظالم نے ریاست میں قانون اور امن و امان پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اورنگزیب نے جس طرح جزیہ ٹیکس عائد کیا تھا، ویسے ہی آج اسکول کے سامان اور شمشان گھاٹ کی لکڑیوں پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ میں نے کوئی گالی نہیں دی اور نہ ہی نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں، اس لیے معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سپکال نے مزید کہا کہ اورنگزیب کی تعریف کرنے والا گروہ کیا بی جے پی کا اسپانسر ہے؟ ایکناتھ شندے کو اورنگزیب کا حوالہ اچھا لگا، اس لیے انہوں نے پوری قوت سے بیان دیا۔ اگرچہ ان کا لہجہ دھمکی آمیز نہیں تھا، لیکن اس کا مطلب وہی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے پاس 70-75 ہزار کروڑ نہیں ہیں، نہ ہی میں اپنے چچا کے سہارے سیاست کر رہا ہوں، اور نہ ہی میرے پاس کوئی شوگر مل ہے۔ مجھے اپنی ذمہ داری فکری طور پر ادا کرنی ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے سوال کیا کہ بی جے پی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ نریندر مودی پچھلے جنم میں چھترپتی شیواجی مہاراج تھے۔ اب کوئی یہ کہے کہ دیویندر فڈنویس پچھلے سے پچھلے جنم میں شیواجی مہاراج تھے تو کیا یہ شیواجی مہاراج کی توہین نہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد نے اورنگزیب کی قبر کے بارے میں جو موقف اختیار کیا، ویسا ہی موقف ان لوگوں کے بارے میں بھی اختیار کیا جانا چاہیے جو انگریزوں کے وفادار رہے، پینشن لیتے رہے اور شیواجی مہاراج اور سمبھاجی مہاراج کی توہین کرتے ہیں۔ ان کے مجسمے اور یادگاریں آج بھی ریاست میں موجود ہیں۔ بی جے پی کو ان کے بارے میں بھی اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔