MPCC Urdu News 18 June 25

ہندی کی جبری مسلطی دراصل مراٹھی زبان و ثقافت کے خاتمے کی سازش ہے

بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنڈا ہم ناکام بنائیں گے: ہرش وردھن سپکال

گجرات میں پہلی جماعت سے ہندی لازمی نہیں، تو صرف مہاراشٹر میں کیوں؟

بی جے پی نے پہلے اقبال مرچی کو گلے لگایا، اب سلیم کتے سے اتحاد، اب صرف داؤد ابراہیم کی پارٹی میں شمولیت باقی ہے!

ممبئی: 18 جون 2025

مہاراشٹر میں پہلی جماعت سے ہندی زبان کو لازمی قرار دینے کی ضد دراصل وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی ضد ہے۔ ہمیں ہندی یا کسی بھی زبان سے کوئی دشمنی نہیں، لیکن ابتدائی تعلیم کا ذریعہ مادری زبان ہونا چاہیے۔ یہ ملک بھر کے ماہرینِ تعلیم کا متفقہ نظریہ ہے۔ مگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ہندی کو جبراً نافذ کرنا محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ مراٹھی زبان اور مہاراشٹر کی صدیوں پرانی ثقافت کو مٹانے کا منصوبہ ہے۔ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا سوچا سمجھا ایجنڈا ہے اور اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری خود فڈنویس نے سنبھالی ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہیں۔

تِلک بھون میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں سپکال نے کہا کہ اس سے پہلے بھی جب حکومت نے ہندی کی لازمی تعلیم کا فرمان جاری کیا تھا، تب کانگریس نے اس کی سخت مخالفت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اسے فی الفور واپس لیا جائے۔ اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ ہندی تھوپنے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اب 17 جون 2025 کو جو نیا فرمان جاری ہوا ہے، اس میں صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے، مگر مقصد وہی پرانا ہے یعنی ہندی کی جبری تعلیم۔ فڈنویس کی یہ چالاکی اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ الفاظ بدلنے سے مفہوم نہیں بدلتا۔ مراٹھی محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے اور اس تہذیب کو ختم کرنا بی جے پی اور آر ایس ایس کا دیرینہ منصوبہ ہے۔

سپکال نے مزید کہا کہ ’ہندی، ہندو اور ہندو راشٹر‘ یہ نظریہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز گولولکر کی کتاب ’بنچ آف تھاٹس‘ میں درج ہے اور یہی نظریہ آج دیویندر فڈنویس مہاراشٹر میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اس سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یہ صرف زبان کی لڑائی نہیں، بلکہ تہذیب، خودمختاری اور شناخت کی لڑائی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بی جے پی کے ہی حکمرانی والے گجرات میں پہلی جماعت سے ہندی لازمی نہیں ہے، تو مہاراشٹر میں کیوں؟ کیا فڈنویس کو یہ سوال اپنے قائد نریندر مودی سے نہیں پوچھنا چاہیے؟ چھترپتی شیواجی مہاراج کے ’ہندوی سوراجیہ‘ کی دھرتی پر بی جے پی کا ’ہندو راشٹر‘ کا نظریہ ہرگز تھوپنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ لڑائی ’ہندوی سوراجیہ‘ بمقابلہ ’ہندو راشٹر‘ ہے اور کانگریس مکمل طور پر شیواجی مہاراج کے نظریے کے ساتھ کھڑی ہے۔ سپکال نے مہاراشٹر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہندی زبان کے جبری نفاذ کے خلاف سخت مؤقف اپنائیں اور اس سرکاری فرمان کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اس حکم نامے کا جڑ سے صفایا کریں۔

بی جے پی میں اب صرف داؤد ابراہیم کی شمولیت باقی ہے…

اس موقع پر سپکال نے بی جے پی کے دوہرے رویے پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ناسک سے تعلق رکھنے والے بی جے پی لیڈر سدھاکر بڈگجر کے تعلقات بدنامِ زمانہ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی سلیم کتا سے ہیں۔ خود فڈنویس نے اسمبلی میں اس معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ اور آج اسی بڈگجر کو بی جے پی میں نہ صرف شامل کیا گیا بلکہ پرجوش خیر مقدم بھی کیا گیا۔ پہلے اقبال مرچی جیسے مجرموں سے جڑے لیڈروں کو پارٹی میں شامل کیا گیا اور اب سلیم کتے سے گٹھ جوڑ کر لیا گیا ہے۔ اب صرف داؤد ابراہیم کی بی جے پی میں شمولیت باقی رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو پارٹی خود کو قوم پرست اور قانون کا پاسدار بتاتی ہے، وہی پارٹی مافیا سے گٹھ جوڑ کر کے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے۔ یہ سیاسی دیوالیہ پن نہیں تو اور کیا ہے؟ ایک طرف عوام کے دلوں میں قومی زبان کے نام پر تعصب بھرا جا رہا ہے، اور دوسری طرف مافیا سے دوستی کی جا رہی ہے۔ سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر کے عوام باشعور ہیں اور وہ اس سازش کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ اب یہ لڑائی صرف کانگریس کی نہیں، ہر اس شخص کی ہے جو مراٹھی زبان، ثقافت، شناخت اور آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے زبان کے نام پر کی جانے والی زبردستی اور تہذیبی یلغار کو مہاراشٹر کی عوام کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

MPCC Urdu News 18 June 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading