ریاستی کانگریس کے دفتر میں یومِ اقلیتی حقوق کا انعقاد شعبہ اقلیت کی جانب سے دفتر کے ملازمین وبرادران وطن کا استقبال

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی شعبہ اقلیت کی جانب سے ریاستی کانگریس کے دفتر واقع تلک بھون دادر میں یومِ اقلیتی حقوق کا انعقاد کیا جس میں ریاستی صدر ایم ایم شیخ نے کانگریس کے کل وقتی ملازمین نیز دیگر برادران وطن کا استقبال کیا۔ اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایم شیخ نے کہا کہ ملک کی فروغ دی جارہی سیاست کے ذریعے ملک کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن اس ملک کی مٹی میں اتحاد اور گنگاجمنی تہذیب رچی بسی ہے۔ لوگوں کو بھلے وقتی طور پر تقسیم کرکے کچھ لوگ سیاسی فائدے حاصل کرلیں، مگر ہم سب ایک ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی اقلیتوں کے جو مسائل ہیں وہی کم وبیش پورے ملک کے مسائل ہیں، مگر ملک کی مرکزی حکومت کی جانب سے اسے ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک کا کسان سڑکوں پر ہے۔ 22دنوں سے وہ دہلی کی سرحد پرٹھٹھرتی سردی میں بیٹھا ہوا ہے، مگر مرکزی حکومت ان کے مطالبات ماننے کے لیے تیارنہیں ہے۔ آج یومِِ اقلیتی حقوق کے موقع پر ہمیں ملک کے ان تمام محروموں ومجبوروں کے حقوق کی بازیابی کی کوشش کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔

اس موقع پر ریاستی کانگریس کے نائب صدر حاجی ابراہیم بھائی جان ودیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔انہوں نے آپسی اتحاد وبھائی چارے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تقسیم کرکے اقلیت واکثریت میں بانٹ دیا گیا ہے جبکہ ہم سب ایک ہی ہیں۔ اس تقسیم کی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو فرقہ پرستوں اور تقسیم کی سیاست کرنے والوں کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آج کے دن سے یہ عہدکرلینا چاہیے کہ جتنا ہوسکے ہم اپنی بات، اپنے خیالات اور اپنے مسائل میں ایک دوسرے کو شریک کریں گے۔ اس پروگرام میں سکھ برادری کے بھی کچھ لیڈران شریک ہوئے جنہوں نے کسانوں کے مسائل پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسانہیں ہے کہ مرکزی کی بی جے پی حکومت صرف اقلیتوں کے خلاف ہے بلکہ وہ ان تمام لوگوں کے خلاف ہے جو مرکزی حکومت کے خلاف ہیں۔پھر چاہے وہ مسلمان ہوں یا سکھ چاہے وہ کاروباری ہوں یا کسان۔ اس موقع پر ریاستی کانگریس کے دفتر میں کام کرنے والے تمام چھوٹے بڑے ملازمین کا شعبہ اقلیت کی جانب سے استقبال کیا گیا اور انہیں مٹھائیاں پیش کی گئیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading