بے روزگاری کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ملک کی چار سال کی خدمت
کسانوں، مزدوروں، تاجروں کے بعد اب نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے کی سازش
ممبئی:مرکز کی نریندر مودی حکومت نے ’اگنی پتھ‘ اسکیم کے نام پر ایک اور بے تکے اور من مانے فیصلہ سے ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے ساتھ ظالمانہ مذاق کیا ہے۔یہ شدید تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ناناپٹولے نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگنی پتھ‘ کے تحت فوج میں صرف 4 سال خدمات انجام دینے کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ان نوجوانوں کو چار سال کی سروس کے بعد دوبارہ بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ہر سال 2 کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ انتخابی ہتھکنڈا ثابت ہوا ہے اور نوجوانوں کو نوکریوں کے نام پر دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس وقت مرکزی حکومت میں 62 لاکھ 29 ہزار آسامیاں خالی ہیں جن میں سے 2 لاکھ 55 ہزار آسامیاں ہندوستانی فوج میں ہیں۔ ان میں سے صرف 46000 کو بھرتی کرنے کا فیصلہ بڑی دھوم دھام سے کیا گیا ہے۔
چھ ماہ کی ٹریننگ اور پھر ساڑھے تین سال کی نوکری اور تنخواہ صرف 30 سے 40 ہزار روپے۔ نہ تحفظ کی ضمانت اور نہ ہی مستقبل کے لیے کوئی انتظام۔ چار سال کی سروس کے بعد یہ نوجوان دوبارہ فوج میں خدمات انجام نہیں دے سکیں گے۔ آرمی سروس سے سبکدوش ہونے کے بعد ان نوجوانوں کو سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنا پڑے گا یا روزی روٹی کے لیے سڑکوں پر ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔ نانا پٹولے نے کہا کہ مودی حکومت کا یہ فیصلہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ زبردست دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جاری شدید احتجاج سے یہ واضح ہے کہ’اگنی پتھ‘ کے نام پر’جملہ پتھ‘ نوجوانوں کو قابل قبول نہیں ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں ہمارے فوجی اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہمارے جوان کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے زیادہ اہم ہیں۔ ایسے میں ان کے مستقبل سے کھیلنا ملکی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ ہے۔ مودی حکومت کا یہ فیصلہ صرف فوجیوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی سیکورٹی کا سوال ہے۔ پٹولے نے کہاہم ملکی سلامتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ریاستی صدر نے کہا کہ مودی حکومت کو فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لینا چاہیے۔