گستاخِ رسول نپورشرما ونوین جندل کو فوراً گرفتار کیا جائے وزیراعلی، نائب وزیراعلیٰ ووزیرداخلہ سے عارف نسیم خان کا مطالبہ

ممبئی: رسولِ اقدس کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جے پی کی سابق ترجمان نوپورشرما ودہلی بی جے پی کے سابق میڈیا نوین جندل کو فوری گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں سابق وزیر وریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان نے وزیراعلی، نائب وزیراعلی، وزیرمحصول، وزیر برائے تعمیرات عامہ نیز وزیرداخلہ سے ایک مکتوب کے ذریعے کیا ہے۔

اپنے مکتوب میں نسیم خان نے کہا ہے کہ ”بی جے پی کی سابق ترجمان نوپورشرما ونوین جندل نے پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے قابلِ اعتراض باتیں کہیں جس کی وجہ سے ممبئی ومہاراشٹر سمیت پورے میں ملک میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ ان لوگوں کی بیان کی وجہ سے مسلمانوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ مہاراشٹر میں بیشتر مقامات پر ان لوگوں کے خلاف احتجاج ہوئے اورممبئی کے پائیدھونی پولیس اسٹیشن اور تھانے ضلع کے ممبرا وبھیونڈی کے پولیس اسٹیشنوں نیز ریاست کے کئی پولیس اسٹیشنوں میں ان کے خلاف ایف آی آر تک درج ہوئی ہے۔ لیکن آج تک ان لوگوں کے خلاف کوئی بھی سخت کارروائی ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں حکومت کے تئیں زبردست ناراضگی وغصہ ہے“۔ اپنے مکتوب میں نسیم خان نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک سینئر پولیس آفیسر کی ٹیم بناکر فوری طور پر نوپورشرما ونوین جندل کوگرفتار کیا جائے نیزنہایت سنجیدگی سے آئندہ کی کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ نوپورشرما اور نوین جندل کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست سمیت ملک بھر میں مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے جس کا سلسلہ ہنوزجاری ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان تمام احتجاجات کے باوجود ان گستاخانِ رسول کے خلاف کوئی بھی ٹھوس کارروائی ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔ جبکہ اس کے برخلاف دہلی پولیس کی جانب سے انہیں سیکوریٹی تک فراہم کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب جن لوگوں نے بھی ان کی گرفتاری کامطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا، بی جے پی ریاستوں میں انہیں ہی گرفتار کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ اس صورت حال سے مسلمانوں میں بی جے پی حکومتوں کے تئیں زبردست ناراضگی ہے۔ لیکن مہاراشٹر میں چونکہ بی جے پی کی حکومت نہیں ہے اس لئے مسلمانوں کوتوقع تھی کہ یہاں پر نوپورشرما وجندل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور نہیں گرفتار کیا جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کو اس معاملے میں ابھی تک مایوسی ہاتھ آئی ہے۔

اس صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے نسیم خان نے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے، نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار، وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، تعمیرات عامہ کے وزیر اشوک چوہان نیزوزیرداخلہ دلیپ ولسے پاٹل سے ان گستاخانِ رسول کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ دیگر بی جے پی ریاستوں میں ظاہر ہے کہ ان ملعونوں کے ساتھ رعایت کی جائے گی لیکن مہاراشٹر میں توکم ازکم ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کی حکومت بھی اس معاملے میں سردمہری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ نسیم خان نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے مسلمانوں نے اس معاملے میں صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ممبئی کے پائیدھونی،تھانے ضلع کے بھیونڈی وممبرا کے پولیس اسٹیشنوں وریاست بھر کے دیگر پولیس اسٹیشنوں میں ایف آئی آردرج کروائی لیکن افسوس کہ ان ایف آئی آر پر بھی کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں زبردست ناراضگی ہے۔میں نے حکومت کو مسلمانوں کے جذبات اور ان کی ناراضگی سے مطلع کرنے کے ساتھ ہی ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیاہے اور مجھے امید ہے کہ حکومت جلد ازجلد اس معاملے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading