MPCC Urdu News 14 July 25

کانگریس پارٹی ریاست کے ہر ضلع میں ’پبلک سیکوریٹی قانون‘ کی ہولی جلائے گی: ہرش وردھن سپکال

پبلک سیکوریٹی قانون حکومت اور اس کے چہیتے صنعتکاروں کے فائدے کے لیے بنایا گیا ہے

حکومت کے غلط فیصلوں کی مخالفت کرنے والوں کو نکسلی قرار دے کر جیل میں ڈالنے کی نیت سے ہی یہ قانون لایا گیا ہے

پروین گائکواڑ پر حملہ کرنے والی طاقتیں وہی ہیں جنہوں نے پانسرے اور دابھولکر کو قتل کیا ہے

ممبئی:مورخہ 24 جولائی 2025

’اربن نکسل‘ کو ختم کرنے کے نام پر پبلک سیکوریٹی قانون لانے کا حکومت کا دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ یہ قانون اندر سے بھی اور باہر سے بھی پوری طرح سیاہ ہے، جو عام شہریوں کی آواز کو دبانے والا ہے۔ اس لیے کانگریس پارٹی نے ابتدا سے ہی اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ اسمبلی میں حکومت کو اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس قانون کو زبردستی منظور کروایا ہے۔ اگرچہ حکومت نے یہ قانون منظور کروا لیا ہے، لیکن کانگریس کی مخالفت جاری رہے گی اور ریاست کے ہر ضلع میں اس سیاہ قانون کی ہولی جلائی جائے گی۔ یہ اعلان مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔

گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ پبلک سیکوریٹی قانون کا مقصد ہی بنیادی طور پر غلط اور جابرانہ ہے۔ اس قانون کا فائدہ صرف حکومت اور حکومت نواز صنعتکاروں کو حاصل ہوگا۔ دھاراوی کی زمین ہڑپنے والے، گڑچیرولی ضلع کی سورج گڑھ معدنی دولت کو لوٹنے والے اور شکتی پیٹھ مہامارگ پر ریڈ کارپٹ چاہنے والے صنعتکاروں کو اس سے سیدھا فائدہ پہنچے گا۔ اس کے برعکس اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے والے گڑچیرولی کے ماحولیاتی کارکن، آدیواسی، دھاراوی کے شہری، شکتی پیٹھ کے لیے آواز بلند کرنے والے کسانوں کو جیل میں ڈالا جائے گا، ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی۔ حکومت کی تعریف کرو، نہیں تو خاموش رہو اور اگر تم مخالفت کرو گے، تو پبلک سیکوریٹی قانون کی لاٹھی سے تمہیں خاموش کرا دیا جائے گا۔ یہی اس قانون کے پیچھے کی اصل منشا ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے سوال کیا کہ آئین کی بات کرنا، شیو شاہو پھلے امبیڈکر کے خیالات کو آگے بڑھانا، مہاتما گاندھی اور تُکڑوجی مہاراج جیسے مہان شخصیات کے خیالات کو عام کرنا کیا نکسل ازم ہے؟ اس پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو وضاحت دینی چاہیے۔ اگر یہ خیالات نکسلی ہیں، تو میں ان کی مسلسل پیروی کرتا رہوں گا، مجھے گرفتار کرنا ہے تو فڑنویس صاحب بلا جھجک کریں۔ ہرش وردھن سپکال نے یہ کھلا چیلنج بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فڑنویس کہتے ہیں کہ بائیں بازو کی نظریات زہر پھیلاتے ہیں تو ہم انہیں یہ بھی بتائیں گے کہ سنگھ کی شاکھاؤں میں کس طرح کا زہر بویا جاتا ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر نریندر دابھولکر نے ساری زندگی توہم پرستی کے خلاف کام کیا اور ان کا قتل کر دیا گیا۔ بہوجنوں کو تعلیم یافتہ بنانے والے، قلم کے ذریعے جدوجہد کرنے والے کامریڈ گووند پانسرے اور کلبرگی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ان لوگوں کے قتل کے پیچھے جو طاقتیں تھیں، وہی طاقتیں آج سمبھاجی بریگیڈ کے پروین گائکواڑ پر حملے کے پیچھے ہیں۔

MPCC Urdu News 14 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading