کیا کسانوں کی توہین کرنا ہی بی جے پی حکومت کی پالیسی ہے؟ ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہے جانے والے کسانوں کو بھکاری کہنے کی جرات کیسے ہو سکتی ہے؟
ممبئی: بی جے پی محاذ حکومت کے وزراء کے کسانوں کے تئیں رویے پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیر زراعت مانک راؤ کوکاٹے نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج کل بھکاری بھی ایک روپیہ نہیں لیتے، لیکن ہم نے کسانوں کو ایک روپے میں فصل بیمہ دیا‘۔ اس بیان پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور مانک راؤ کوکاٹے سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
اتل لونڈھے نے حکومت کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی محاذ حکومت کسی طور کسانوں کے مفادات کی محافظ نہیں، بلکہ ان کی توہین کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ تی ہے۔ کسان ہی اپنے پسینے سے زمین کو زرخیز بناتے ہیں۔ یہ ملک کی غذائی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور اپنی محنت سے ہر شہری کے چولہے تک کھانا پہنچاتے ہیں۔ یہی کسان آج اس حکومت کی نظر میں بھکاری بن گیے ہیں؟
لونڈھے نے کہا کہ کسانوں کی حالت پہلے ہی نازک ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ناقص پالیسیوں اور سرکاری نااہلی کی وجہ سے کسان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں ہزاروں کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور ایسے حالات میں حکومت کا رویہ بے حد غیر انسانی اور شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانک راؤ کوکاٹے کا بیان بی جے پی کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے بجائے ان کی توہین کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔
اتل لونڈھے نے مانک راؤ کوکاٹے کے اس بیان پر بھی اعتراض کیا، جس میں انہوں نے فصل بیمہ یوجنا میں ہونے والی بدعنوانی کو معمول کی بات قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیر زراعت خود تسلیم کر رہے ہیں کہ فصل بیمہ یوجنا میں گھوٹالہ ہوا ہے، تو حکومت کسانوں کو معاوضہ دینے کے بجائے اس کرپشن کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے؟ کیا سرکار نے طے کر لیا ہے کہ وہ کسانوں کے ساتھ انصاف نہیں کرے گی؟ لونڈھے نے کہا کہ دراصل بی جے پی، شیوسینا و این سی پی اجیت پوار کی حکومت کسانوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔
اتل لونڈھے نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں اور مانک راؤ کوکاٹے کو فوراً وزارت سے برطرف کریں، ورنہ کانگریس کسانوں کے ساتھ سڑکوں پر اتر کر زبردست احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسانوں کی بے عزتی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ یہ صرف ایک وزیر کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ کسانوں کے وقار اور ان کے مستقبل کا سوال ہے۔ اجیت پوار اور دیویندر فڑنویس اگر واقعی عوامی فلاح چاہتے ہیں، تو انہیں فوراً وزیر زراعت سے استعفیٰ لینا ہوگا، ورنہ کسان اس حکومت کو بخشنے والے نہیں ہیں۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب بی جے پی حکومت کے کسی وزیر نے کسانوں کی توہین کی ہے۔ پہلے بھی کئی مواقع پر کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ بی جے پی اور اجیت پوار کی قیادت والی یہ حکومت سرمایہ داروں کی دوست اور کسانوں کی دشمن بن چکی ہے۔ اگر مانک راؤ کوکاٹے کو فوراً برطرف نہیں کیا گیا تو کانگریس اور کسان تنظیمیں پورے مہاراشٹر میں احتجاج کریں گی۔ لونڈھے نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس توہین کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے متحد ہوں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس کسان مخالف حکومت کو آئینہ دکھائیں۔
