کانگریس کا نیا عزم: ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں پارٹی کی تعمی ر نو مراٹھا ووٹ بینک کی واپسی اور گروپ بندی ختم کرنے کی حکمت عملی

کانگریس کا نیا عزم: ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں پارٹی کی تعمیر نو
مراٹھا ووٹ بینک کی واپسی اور گروپ بندی ختم کرنے کی حکمت عملی

ممبئی: (آفتاب شیخ)
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد کانگریس نے اپنی تنظیمی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال کو ریاستی صدر مقرر کیا ہے۔ سپکال، جو بلڈھانہ کے سابق ایم ایل اے اور راہول گاندھی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، کو ایک بکھری ہوئی تنظیم کو متحد کرنے اور پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں کی ہجرت روکنے کا سخت چیلنج درپیش ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ مہاراشٹر کانگریس کی قیادت کسی نسبتاً نئے اور کم معروف چہرے کو سونپی گئی ہے۔ ماضی میں ریاستی صدر کا عہدہ ہمیشہ تجربہ کار اور سینئر رہنماؤں کو دیا گیا تھا۔ سپکال کے سیاسی کیریئر کی بنیاد پنچایتی راج میں ان کی خدمات اور کسانوں کے مسائل پر ان کے کام پر رکھی گئی ہے، لیکن ریاستی سطح پر ان کی مقبولیت محدود رہی ہے۔

سپکال کا تعلق مراٹھا برادری سے ہے، جو مہاراشٹر کی آبادی کا 28 فیصد سے زیادہ ہے اور متعدد اسمبلی سیٹوں پر فیصلہ کن اثر رکھتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو مراٹھا ووٹوں کا فائدہ ہوا تھا، لیکن اسمبلی انتخابات میں یہ ووٹ بی جے پی اور شیوسینا کے اتحاد کی طرف چلا گیا۔ سپکال کی تقرری کے ذریعے کانگریس نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مراٹھا ووٹ بینک کو واپس حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

مہاراشٹر کانگریس حالیہ دنوں میں شدید گروپ بندی اور اندرونی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ کئی سینئر لیڈروں نے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی یا شیوسینا کے شندے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس سے کارکنوں کے اندر مایوسی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ سپکال کو ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کر کے اعتماد بحال کرنے اور پارٹی کے اتحاد کو یقینی بنانے کا کام سونپا گیا ہے۔

ہرش وردھن سپکال کی تقرری کے ساتھ ساتھ چندرپور سے وجے وڈیٹیوار کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر مقرر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ کانگریس ودربھ کے خطے کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ یہ اقدام مراٹھا اور او بی سی برادریوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے، جو ریاستی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ہرش وردھن سپکال کا تعلق ایک کسان خاندان سے ہے اور وہ پچھلے 25 سال سے سیاست میں سرگرم ہیں۔ 1999 میں وہ مہاراشٹر کے سب سے کم عمر ضلع پریشد کے صدر بنے اور 2014 میں بلڈھانہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کی پنچایتی راج تنظیم کے قومی صدر بھی ہیں۔ سپکال نے اپنی سیاست کو گاندھیائی اصولوں پر استوار کیا ہے اور پانی کے تحفظ، گاؤں کی صفائی، اور مثالی گاؤں کی تعمیر جیسی سماجی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کانگریس نے وفادار کارکنوں کو ترجیح دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ سبکدوش ہونے والے صدر نانا پٹولے، جو بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے تھے، کو ریاستی صدر اور اسمبلی اسپیکر جیسے بڑے عہدے دیے گئے تھے۔ اب پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ قیادت وفادار کارکنوں کے ہاتھ میں دی جائے، تاکہ تنظیم میں اندرونی استحکام لایا جاسکے۔ سپکال کی تقرری اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

کانگریس کو بی جے پی اور اتحاد والی حکومت سے مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ سپکال کی قیادت میں تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنا، وفادار لیڈروں کو ذمہ داریاں دینا، اور آنے والے انتخابات کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا اولین ترجیحات ہوں گی۔ کانگریس کو امید ہے کہ سپکال کی قیادت میں دھڑے بندی ختم ہوگی اور پارٹی نئی طاقت کے ساتھ ابھرے گی۔

ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں مہاراشٹر کانگریس نے اپنی تعمیر نو کا سفر شروع کر دیا ہے۔ نئی قیادت کے ساتھ پارٹی نے اتحاد، استحکام، اور انتخابی کامیابی کے حصول کا عزم کیا ہے۔ اگر سپکال اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے ہیں تو یہ کانگریس کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading