ملک میں جمہوریت کے چاروں ستون لرز رہے ہیں: اننت گاڈگل میڈیا، الیکشن کمیشن اور عدلیہ پر سوالات تشویش ناک

جرمنی: ایک معمار کی حیثیت سے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں میں نے بے شمار عمارتوں کے ستون مضبوطی سے کھڑے کیے ہیں، لیکن آج ایک اپوزیشن لیڈر کے طور پر جب میں ملک کی سیاسی صورتحال پر نظر ڈالتا ہوں تو جمہوریت کے چاروں ستون لرزتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ملک کے لیے یہ ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ یہ بات کانگریس کے سینئر لیڈر اور آرکیٹیکٹ اننت گاڈگل نے جرمنی میں کہی۔

جرمنی کی معروف ہائیڈل برگ یونیورسٹی نے رواں سال کے سرمائی سیشن میں ’جمہوریت کو درپیش چیلنجز‘ کے موضوع پر اننت گاڈگِل کا لیکچر منعقد کیا تھا۔ اس میں انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ جب کسی سیاسی پارٹی کو غیر معمولی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو وقت کے ساتھ وہ حکومت اور قیادت آمریت کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔ ہندوستان میں بھی اب اس کا تجربہ ہونے لگا ہے۔ بھاری اکثریت کے زور پر ایوان میں اپوزیشن کی آواز دبانا اور پھر ایوان کا وقت ضائع کرنے کا الزام بھی اپوزیشن پر ہی ڈال دینا اب ہندوستان میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

اننت گاڈگِل نے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں کی تعداد تقریباً 2750 تک پہنچ چکی ہے۔ کیا واقعی اتنی بڑی تعداد میں سیاسی پارٹیوں کی ضرورت ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ عالمی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ محدود تعداد میں سیاسی پارٹیوں والے ممالک زیادہ ترقی یافتہ اور مستحکم ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں علاقائی جذبات کی بنیاد پر کئی ریاستوں میں مقامی پارٹیوں کا اقتدار میں آنا بھی جمہوریت کے سامنے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اتحاد کی سیاست میں کم ووٹ حاصل کرنے والی پارٹیوں کو اقتدار میں غیر متناسب حصہ مل رہا ہے، جو مستقبل میں ملک کی یکجہتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

گاڈگل نے کہا کہ اگرچہ بظاہر میڈیا پر صرف اتنی پابندی دکھائی جاتی ہے کہ وہ انتخابی سروے کے اعداد و شمار شائع نہ کرے، لیکن درحقیقت میڈیا پر بالواسطہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حکمراں جماعت کے خلاف یا اپوزیشن کے حق میں خبریں شائع کرنے سے میڈیا ادارے کسی نہ کسی خوف کے تحت گریز کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ اور بہار جیسے ریاستوں میں انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ کل ووٹرز کے اعداد و شمار اور بعد میں اعلان کردہ ووٹنگ فیصد کے درمیان بڑا فرق سامنے آیا، مگر اپوزیشن کی جانب سے وضاحت طلب کرنے کے مطالبے کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ مہاراشٹر میں تو شام کے محض ایک گھنٹے میں ووٹنگ فیصد میں غیر معمولی اضافے پر وضاحت یا سی سی ٹی وی ریکارڈنگ دکھانے کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا گیا۔ اس کے برعکس، اپوزیشن کے عدالت سے رجوع کرنے سے پہلے ہی قوانین میں تبدیلی کر دی گئی۔

اننت گاڈگل نے کہا کہ ہندوستان ثقافت میں عدلیہ کو دیوتا کا درجہ دیا جاتا ہے۔ سن 1975 میں اس وقت کی وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کے خلاف عدالت نے فیصلہ دیا تھا۔ آج کیا ایسا ممکن ہے؟ یہ سوال ہندوستان میں شدت سے اٹھ رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد تقرریوں کے طریقۂ کار پر خود سپریم کورٹ کے نامور وکلا آج کیا کہہ رہے ہیں، یہ سب یوٹیوب پر دستیاب ہے۔ اگر عدل فراہم کرنے والا ادارہ ہی انصاف نہ دے سکے تو پھر آج بھارت میں اپوزیشن پارٹیاں انصاف کے لیے کس کے پاس جائیں، یہ ایک سنگین سوال بن چکا ہے۔

MPCC Urdu News 14 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading