صرف ضمنی مطالبات پیش کر کے منظور کرانا ہی حکومت کا واحد مقصد تھا: جینت پاٹل
ناگپور: اسمبلی کے سرمائی اجلاس کا آج اختتام ہو گیا، لیکن اس اجلاس میں کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔ صرف ضمنی مطالبات پیش کرنا اور انہیں منظور کرا لینا ہی حکومت کا واحد مقصد تھا۔ یہ تنقید این سی پی- ایس پی کے اسمبلی میں پارٹی لیڈر جینت راؤ پاٹل نے کی ہے۔ اسمبلی اجلاس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس سے جینت پاٹل خطاب کر رہے تھے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ سات دن کا یہ اجلاس وزیر اعلیٰ کے جواب کے ساتھ ختم ہوا، لیکن ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب حکومت نے ودربھ پر بحث کرنا ضروری سمجھا ہو، جس پر افسوس ہوتا ہے۔ اس اجلاس میں آج بڑے بڑے دعوے والی تقاریر کی گئیں، مگر عملی طور پر کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آیا، یہ حقیقت سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایم آئی ڈی سی میں سرمایہ کاری سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی اور کچھ براہِ راست سوالات کیے۔ جواب میں بتایا گیا کہ پچھلے چند برسوں میں 190 معاہدے ہوئے ہیں، جن کے تحت 20 لاکھ 62 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور اس کے ذریعے 13 لاکھ 24 ہزار روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔ زیادہ تر منصوبوں کے لیے زمین کے حصول کا کام جاری ہے، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ جتنے ایم او یوز ہوتے ہیں، حقیقت میں اتنی سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے مہاراشٹر کے بے روزگار نوجوانوں کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔
جینت پاٹل نے مزید کہا کہ جواہر تعلقہ میں تقریباً 111 کروڑ روپے کی بلوں کی رقم دھوکہ دہی سے نکالنے کی کوشش کو اسٹیٹ بینک کے ایک افسر نے روکا۔ ہماری معلومات کے مطابق کچھ لوگ تقریباً 1200 کروڑ روپے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت سے توقع تھی کہ وہ ایس آئی ٹی قائم کر کے ایسے عناصر کی جڑ تک جائے گی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر ہو چکا ہے۔ ستارا، وردھا کے چھوٹے گاؤں، کارنجہ جیسے علاقوں میں منشیات سے متعلق بڑے کارخانے چل رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے نوجوان منشیات کے جال میں پھنس چکے ہیں، جو سماج کے سامنے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت سے ٹھوس کارروائی کی امید تھی، مگر وہ پوری نہیں ہوئی۔ پاٹل نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان اہم مسائل کو ایک طرف رکھ کر غیر ضروری موضوعات کو سامنے لایا جا رہا ہے۔ کسانوں کی قرض معافی، لاڈلی بہنوں کی قسط میں اضافہ جیسے کئی اہم سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔
NCP-SP Urdu News 14 Dec. 25.docx
