MPCC Urdu News 10 March 25

کسانوں، خواتین اور عوام سے دھوکہ! کوئی سمت، ہدف یا پالیسی نہ رکھنے والا کھوکھلا بجٹ: ہرش وردھن سپکال

مہاراشٹر اب نہیں رکے گا، بی جے پی-یوتی حکومت ریاست کو قرض میں ڈُبونے اور تباہ کرنے جا رہی ہے!

کسان قرض معافی اور زرعی پیداوار کی کم از کم قیمت پر کوئی اعلان نہیں، کسانوں کو مفت بجلی کا وعدہ محض فریب

ریاست پر 8 لاکھ کروڑ کا قرض، آمدنی سے زیادہ اخراجات، بدعنوان مہا یوتی نے ریاست کو دیوالیہ بنا دیا

ممبئی: آج کا بجٹ کسانوں، خواتین اور عام عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ یہ ایک کھوکھلا بجٹ ہے جس میں کوئی سمت، ہدف یا واضح پالیسی نہیں ہے۔ اس بجٹ سے کسی بھی طبقے کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انتخابات میں کیے گئے وعدے پورے کرنے کے بجائے حکومت نے ریاست کی عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ ریاست میں مالی بدنظمی کا راج ہے، 8 لاکھ کروڑ روپے سے زائد قرض ہو چکا ہے اور آمدنی سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں۔ جو حکومت مہاراشٹر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بات کرتی تھی، وہی اب ریاست کو قرض میں ڈبو کر تباہ کرنے جا رہی ہے۔ یہ سخت حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا۔

ریاستی بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ یہ بجٹ کیا صرف شہروں کے لیے بنایا گیا ہے؟ وزیر خزانہ کی تقریر میں صرف میٹرو، فلائی اوور، انڈر گراؤنڈ سڑکیں، ہوائی اڈے اور دیگر بنیادی سہولتوں کا ذکر تھا۔ لیکن عام عوام کو درپیش مہنگائی اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی یا منصوبہ نہیں ہے۔ آج کے بجٹ میں کسان قرض معافی پر ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ کسانوں کو مفت بجلی دینے کا وعدہ بھی جھوٹا نکلا، کیونکہ آج بھی کسانوں کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔ کسان سمان ندھی میں اضافے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ زرعی شعبے کی محنت سے ترقی کی شرح بڑھی، لیکن حکومت نے کسانوں کی پیداوار کو مناسب قیمت نہ دے کر انہیں شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کسانوں کی مخالفت کے باوجود، شکتی پیٹھ ہائی وے پر زور دے کر بی جے پی-یوتی حکومت کسانوں کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ سمردھی ہائی وے سے کس کی سمردھی ہوئی۔ انہی لوگوں کو دوبارہ فائدہ پہنچانے کے لیے حکومت اپنی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ حکومت کے اعلان کردہ منصوبے اور سرمایہ کاری صرف ممبئی، نوی ممبئی، پونے، ناسک جیسے شہروں تک محدود ہیں، جبکہ ریاست کا بڑا حصہ ترقی سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس بارے میں بجٹ میں ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا۔

ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ لاڈکی بہن یوجنا کے تحت ماہانہ 2100 روپے دینے کا اعلان بجٹ میں کیا جائے گا، یہ امید باندھنے والی بہنوں کو حکومت میں بیٹھے مکار بھائیوں نے مایوس کر دیا ہے۔ تقریباً 10 لاکھ خواتین کو اس اسکیم سے باہر رکھا گیا ہے۔ صنعتی ترقی کی شرح 5.6 فیصد سے گھٹ کر 4.9 فیصد ہو گئی ہے۔ سروس سیکٹر بھی گر گیا ہے، جس کی وجہ سے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری مالیاتی شعبے میں آئی ہے، صنعتی شعبے میں نہیں، جو کہ ایک تشویشناک معاملہ ہے، لیکن بجٹ میں اس کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشی سروے رپورٹ کے مطابق صرف ممبئی، پونے، تھانے، ناسک، ناگپور، کولہاپور جیسے اضلاع کی حالت بہتر ہے، جبکہ باقی اضلاع کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ان اضلاع کی فی کس آمدنی ملک کی اوسط آمدنی سے کم ہے۔ 50 لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا ہدف سننے میں تو اچھا لگتا ہے، لیکن یہ محض کاغذی دعوے ہیں۔ مہاراشٹر میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن حکومت کے پاس انہیں روزگار دینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ریاست میں 8 لاکھ سے زیادہ سرکاری آسامیاں خالی ہیں، لیکن حکومت انہیں پُر کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے چھترپتی شیواجی مہاراج، سنبھاجی مہاراج، شاہو جی، پھولے اور امبیڈکر کو خراج تحسین پیش کیا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ آج تک شیواجی مہاراج کے عربی سمندر میں بننے والے یادگار کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی، جبکہ یہ حکومت آگرہ میں یادگار بنانے کی بات کر رہی ہے۔ چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے یادگار کا اعلان تو کیا گیا، لیکن ان کے ساتھ گستاخی کرنے والے کوٹکر، سولاپورکر اور ان کے حامیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ مہاراشٹر کی بدقسمتی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading