’اب مہاراشٹر نہیں رکے گا… اب ترقی نہیں رکے گی…‘ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا عزم
زرعی، صنعتی، تجارتی، تعلیمی، صحت، سیاحت، بنیادی سہولتوں اور سماجی ترقی کے لیے اہم بجٹ پیش، ’ترقی یافتہ مہاراشٹر‘ کے خواب کو حقیقت بنانے کا منصوبہ
ممبئی: مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ اجیت پوار نے پیر کو 2025-26 کا ریاستی بجٹ پیش کیا، جس میں ترقی کے متعدد شعبوں کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اجیت پوار نے اعلان کیا کہ ’اب مہاراشٹر نہیں رکے گا… اب ترقی نہیں رکے گی۔‘ یہ بجٹ زرعی، زرعی صنعتوں، تجارت، صنعت، تعلیم، صحت، سیاحت، بنیادی سہولتوں اور سماجی ترقی جیسے مختلف شعبوں کے لیے ٹھوس اقدامات پر مشتمل ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، روزگار اور خود روزگاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے یقین ظاہر کیا کہ ریاستی عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں یہ بجٹ اہم کردار ادا کرے گا۔
اپنی بجٹ تقریر کے آغاز میں اجیت پوار نے مہاراشٹر وملک کی عظیم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گرو تیغ بہادر کی قربانی کی 350 ویں برسی، مہارانی تارابائی کی 300 ویں جینتی اور پونیہشلوک اہلیا بائی ہولکر کی 300 ویں یوم پیدائش کا بھی تذکرہ کیا۔
اجیت پوار نے کہا کہ مہاراشٹر میں سرمایہ کاری کے لیے مثالی ماحول موجود ہے اور ریاست صنعتی ترقی میں ہمیشہ آگے رہی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لحاظ سے بھی مہاراشٹر ملک میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوری 2025 میں داووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں ریاستی حکومت نے 63 کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، جس سے تقریباً 15.72 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، اور اس کے نتیجے میں تقریباً 16 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
بجٹ کی نمایاں خصوصیات
– مالیاتی خسارہ ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار (GSDP) کے 3 فیصد سے کم اور مالیاتی آمدنی کا خسارہ 1 فیصد سے کم رکھا گیا ہے۔
– ترقیاتی رفتار کو تیز کرنے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافہ کیا جائے گا، اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کی معیشت کو 2030 تک 300 بلین ڈالر اور 2047 تک 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
-’میک ان مہاراشٹر‘ کے تحت نئی صنعتی پالیسی تیار کی جائے گی، جس سے آئندہ پانچ سالوں میں 40 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 50 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
– زرعی ترقی کی شرح 2024-25 میں 8.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن اور آبپاشی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔
– مرکزی اسکیموں کے ذریعے ریاست کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کرنے کی خصوصی کوشش کی جائے گی۔
– گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (GST) سے ریاست کی آمدنی میں سالانہ 12-14 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔
– عوامی جائیدادوں کی مونیٹائزیشن، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد اور دیگر مالیاتی ذرائع کے استعمال کے لیے اختراعی اقدامات کیے جائیں گے۔
– ریاست میں سڑکوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، آبی گزرگاہوں، بس ٹرانسپورٹ، ریلوے اور میٹرو کے لیے خاطر خواہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
– نئی ہاؤسنگ پالیسی کے تحت دیہی اور شہری مکانات کے منصوبوں کے لیے بالترتیب 15,000 کروڑ اور 8,100 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
– ریاست کی سالانہ منصوبہ بندی کے بجٹ میں 33 فیصد کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
– اپریل 2025 سے تمام انفرادی مستفید ہونے والی اسکیموں کا فائدہ براہ راست بینک ٹرانسفر (DBT) کے ذریعے دیا جائے گا۔
– ریاست کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تاریخی مقامات اور مذہبی مراکز کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
– آبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
– کھیلوں کے شعبے میں بنیادی سہولتوں کی بہتری اور کھلاڑیوں کی معاونت کے لیے نئی پالیسی بنائی جا رہی ہے۔
-’اسمارٹ پی ڈی ایس‘ اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی تقسیم کے نظام میں شفافیت لائی جائے گی۔
– کوآپریٹو سیکٹر میں مہاراشٹر کی قیادت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف فیسٹیولز اور پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔
– صحت کے شعبے میں، ہر شہری کو 5 کلومیٹر کے دائرے میں معیاری بنیادی طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
– قومی تعلیمی پالیسی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا، اور لڑکیوں کے پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے 100 فیصد فیس کی واپسی کی جائے گی۔
– ریاستی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کیا جائے گا تاکہ قانونی معاملات کو تیزی سے نمٹایا جا سکے۔
اجیت پوار نے اس بجٹ کو ریاست کے مجموعی ترقیاتی ماڈل کا ایک مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہاراشٹر کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔