ٹھیکیداروں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج
ریاستی حکومت کے ٹھیکیداروں اور کارکنوں کا ضلع کلکٹر کے دفتر تک مارچ
تھانے (آفتاب شیخ)
مہاراشٹر اسٹیٹ کنٹریکٹرز فیڈریشن کے ممبران، جنہوں نے ریاستی حکومت کے مختلف بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کیے ہیں، طویل عرصے سے بقایا ادائیگیوں کے منتظر ہیں۔ اس تاخیر کے خلاف، فیڈریشن کے ڈویژنل صدر منگیش اولے کی قیادت میں احتجاجی مارچ نکالا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین علامتی خزانہ لے کر آئے اور وزیر خزانہ اجیت پوار سے مطالبہ کیا کہ وہ "محفوظ خزانے کا دروازہ کھولیں" تاکہ واجبات کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔
ٹھیکیداروں کا کہنا تھا کہ ریاست کے مختلف محکمے، بشمول محکمہ تعمیرات عامہ، دیہی ترقیات، جل جیون مشن اور آبی تحفظ، طویل عرصے سے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کر رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے فیڈریشن نے حکومت کو بارہا پانچ نکاتی مطالبات کا مسودہ پیش کیا، مگر سرکاری سطح پر کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے مہاتما گاندھی، چھترپتی شیواجی مہاراج اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسموں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
منگیش اولے نے اس موقع پر کہا کہ ریاست کے تمام ٹھیکیدار گزشتہ دو سالوں سے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی بار احتجاج اور مذاکرات کیے گئے، لیکن کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ایکناتھ شندے کے وزیر اعلیٰ رہنے کے دوران بھی یہی مطالبات پیش کیے گئے تھے، لیکن وعدے وفا نہیں ہوئے۔ اب موجودہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور وزیر خزانہ اجیت پوار کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن اگر حکومت ٹھیکیداروں کے بل ادا کرے تو اس سے خزانے کو بھی 22 فیصد ٹیکس کی شکل میں فائدہ پہنچے گا، جو معیشت کے استحکام میں معاون ہوگا۔
فیڈریشن نے ضلع کلکٹر کے توسط سے حکومت کو میمورنڈم پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جب تک حکومت تمام منظور شدہ کاموں کے لیے فنڈز جاری نہ کرے، تب تک کسی بھی نئے ٹینڈر کا عمل شروع نہ کیا جائے۔ احتجاج میں فیڈریشن کے عہدیداران انل نلاواڑے، اتل گھرت، شیکھر نیتوانے، کلپیش کینے، سنتوش جےکر، درشنا شندے، وسنت پھلوار، وشال گائیکواڑ، بالکرشن ٹھاکرے، سنی لاڈ موہتے، چیتن شندے، تیواریکر، راجو شیٹھ اور دیگر شریک ہوئے۔
