MPCC Urdu news 10 Dec 24

بیلٹ پیپر پر انتخابات کے مطالبے کے لیے جلد بھارت جوڑو یاترا جیسی بڑی عوامی تحریک کا آغاز کریں گے: نانا پٹولے

جمہوریت کی حفاظت کی جدوجہد میں مارکڑواڑی کے عوام کے ساتھ کانگریس پارٹی مضبوطی سے کھڑی ہے

مارکڑواڑی کے لوگوں پر زبردستی درج کیے گئے مقدمات فوراً واپس لیے جائیں

مارکڈواڑی: پڑوسی ممالک میں جمہوریت کے خاتمے کے بعد بھارت میں جمہوری نظام پر حملے جاری ہیں۔ جمہوریت میں عوام کو بادشاہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بادشاہ کے ووٹوں کی چوری کی جا رہی ہے۔ عوام کے ذہنوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کے متعلق شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے مارکڑواڑی کے عوام نے یہ پیغام دیا ہے کہ بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات ہونا چاہیے تاکہ عوام اپنے ووٹ کی شفافیت کو دیکھ سکیں۔ جمہوریت میں ووٹ کا حق برقرار رہے اور بیلٹ پیپر پر ہی ووٹنگ ہو، اس مطالبے کے لیے جلد بھارت جوڑو یاترا جیسی بڑی تحریک شروع کی جائے گی اور اس کا آغاز مارکڈواڑی سے ہوگا۔ یہ عزم مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے شولاپور ضلع کے مارکڑواڑی گاؤں کا دورہ کیا اور وہاں کے لوگوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ سابق ایم ایل اے رام ہری روپنور، راجیو گاندھی پنچایت راج تنظیم کے قومی صدر ہرش وردھن سپکال، کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے، شولاپور ضلع کانگریس کے صدر نند کمار پاور، شولاپور شہر کانگریس کے صدر چیتن نروٹے اور پروفیسر یشپال بھنگے سمیت بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔

گاؤں کے لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے حیران کن نتائج نے انتخابی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دن شام 5 بجے تک 58.33 فیصد ووٹنگ کی رپورٹ دی تھی، لیکن رات 11:30 بجے تک یہ شرح بڑھ کر 65.2 فیصد ہو گئی اور اگلے دن یعنی 21 نومبر کو دوپہر 3 بجے یہ شرح 66.05 فیصد بتائی گئی۔ یہ تعداد 76 لاکھ ووٹ کی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ اضافی 76 لاکھ ووٹ کہاں سے آئے؟ شام 5 بجے کے بعد کون سے حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے؟ اس تعلق سے ہم نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے متعلق ویڈیو فوٹیج فراہم کی جائے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

نانا پٹولے نے کہا کہ جمہوریت کی حفاظت کے لیے مارکڑواڑی کے عوام کی جدوجہد میں کانگریس پارٹی مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب ریاست کے دوسرے گرام سبھاؤں میں بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کے مطالبے کی قرارداد پاس ہو رہی ہے۔ مارکڑواڑی سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب ریاست بھر میں پھیل رہی ہے۔ سانگلی کے کولے واڑی اور رائے گڑھ کے مان گاؤں سمیت کئی علاقوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ جدوجہد اب صرف مارکڑواڑی تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی تحریک بن چکی ہے۔ مارکڑواڑی کی تحریک کے بارے میں کانگریس کے لیڈر سینئر لیڈران اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو مکمل طور سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پارٹی بھارت جوڑو یاترا کی طرز پر ایک بڑی یاترا نکالنے پر غور کر رہی ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مارکڑواڑی کے عوام نے محض فرضی پولنگ کرنے کا ارادہ کیا تو حکومت خوفزدہ ہو گئی اور پولیس کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔ دفعہ 144 نافذ کی گئی اور کئی افراد پر مقدمات درج کیے گئے۔ نانا پٹولے نے ریاست کے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ گاؤں والوں پر درج کیے گئے مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ کانگریس اس معاملے کی پیروی کرے گی تاکہ عوام کو انصاف مل سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading