ریاست کی دو ضلع پریشدوں میں کانگریس کا اقتدار، جبکہ دو مقامات پر اقتدار میں شراکت: ہرش وردھن سپکال

مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں کانگریس نے تنظیمی توسیع کے لیے اکیلے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا

ممبئی: مہاراشٹر میں حالیہ مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات کانگریس پارٹی کے نظریے اور تنظیمی توسیع کے مقصد کے تحت زیادہ تر مقامات پر اکیلے لڑے گئے۔ بعض علاقوں میں مقامی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتحاد یا محاذ قائم کیا گیا، لیکن مجموعی طور پر یہ انتخابات کارکنوں کے تھے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مواقع دینا ضروری تھا، جو وسیع اتحاد کی صورت میں ممکن نہیں ہوتا۔ عوام نے ان انتخابات میں کانگریس کے نظریے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی۔

ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے نتائج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2019 میں مخصوص سیاسی حالات کے تحت مہاوکاس اگھاڑی قائم کر کے حکومت بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد 2024 کے اسمبلی انتخابات مہاوکاس اگھاڑی کے طور پر لڑے گئے، جبکہ لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی مخالف پارٹیوں نے انڈیا اتحاد تشکیل دیا۔ مگر مقامی خود بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں کئی جگہوں پر کانگریس نے اکیلے لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ونچت بہوجن اگھاڑی، او بی سی بہوجن اگھاڑی اور راشٹریہ سماج پارٹی کو نئے اتحادی کے طور پر ساتھ لیا گیا۔ ان انتخابات کے بعد ریاست میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے طور پر کانگریس ابھر کر سامنے آئی ہے۔ 2029 میں ابھی وقت ہے اور اس وقت کی سیاسی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔

چندرپور میونسپل کارپوریشن کے حوالے سے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس کے پاس 32 ارکان ہیں اور مزید دو کی ضرورت ہے۔ چندرپور میں شیو سینا (یو بی ٹی) اور ونچت بہوجن اگھاڑی نے اپنا الگ گروپ بنایا ہے۔ ان پارٹیوں کی کانگریس کو حمایت حاصل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے اور یو بی ٹی کے ساتھ اس سلسلے میں باقاعدہ بات چیت ہو چکی ہے۔ پربھنی میونسپل کارپوریشن میں شیو سینا (یو بی ٹی) کو کانگریس کی حمایت درکار ہے اور دونوں مقامات پر جو بھی فیصلہ ہوگا، باہمی سمجھوتے سے ہوگا۔

نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے طیارہ حادثے پر بات کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ اس حادثے کو دس دن گزر جانے کے باوجود کئی سوالات کے جواب سامنے نہیں آئے ہیں، جس کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔ ابتدا میں حادثے کی وجہ حدِ نگاہ میں کمی بتائی گئی تھی، لیکن بعد میں کئی نئی باتیں سامنے آئی ہیں۔ اس کے باوجود وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے نظر نہیں آ رہے، جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے سولاپور ضلع کے موہول میں ایک ڈھابے پر ای وی ایم مشین ملنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ سب کے سامنے ہے۔ اس بات کی بھی جانچ ہونی چاہیے کہ اس طرح کی کتنی مشینیں وزیروں یا حکمراں پارٹیوں کے لیڈروں کے گھروں میں پائی گئیں۔ ان انتخابات میں کئی مقامات پر ای وی ایم سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سپکال نے کہا کہ بی جے پی کے سابق صدر جے پی نڈا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بی جے پی کو سنگھ کی ضرورت نہیں۔ ممکن ہے کہ بھاگوت نے اسی کا جواب دیا ہو۔ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو آپس میں طے کرنا چاہیے کہ کس کو کس کی ضرورت ہے۔ سی ٹی ای ٹی امتحان کے دوران امیدواروں سے منگل سوتر اتروانے کے واقعے پر شدید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ یہ انتہائی قابلِ اعتراض اور حیران کن واقعہ ہے۔ نقل اور منگل سوتر کا آپس میں کیا تعلق ہے، یہ ایک سنگین سوال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت اب مذہب کے معاملے میں بھی من مانی کرنے لگی ہے۔

MPCC Urdu News 09 Feb. 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading