حق گو صحافیوں کے استحصال کے خلاف مالیگاوں میں ” نیشنل میڈیا کلب”  تشکیل

0 9

 

Psi 23 sep18
مالیگاوں (خیال اثر) گذشتہ کچھ سالوں سے مالیگاؤں شہر کے صحافتی شعبے میں دیکھا یہ جا رہا ہے کہ کچھ مخصوص لوگ اور مخصوص اردو، مراٹھی اخبارات سے منسلک افراد نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو اپنا آقا تسلیم کرتے ہوئے اپنا صحافتی دسترخوان بچھا رکھا ہے جس پر سیاسی آقاؤں کی مہربانیوں کے خوان سجتے رہتے ہیں. یہ المیہ نہ صرف مالیگاؤں کا ہے بلکہ جمہوریت کے اس چوتھے ستون سے جڑے افراد ہر شہر میں بآسانی مل جاتے ہیں جو دھڑلے سےاپنے سیاسی
آقاؤں کے گن گاتے بھی رہتے ہیں. ایسے افراد کے اپنے ہفت روزہ یا پندرہ روزہ اخبار ہوتے ہیں جو اشتہارات کے موسم میں جلوہ افروز ہوتے رہتے ہیں مگر ان صحافیوں کا رعب دبدبہ ایسا بنایا جاتا ہے کہ شہر میں بس ایک وہی صحافی ہے اور وہی ایک اخبار.
اخبار تو اخبار آج کل الیکٹرانک میڈیا کے نامہ نگار بھی ایسے سیاسی آقاؤں کا دامن پکڑے پھرتے ہیں کیونکہ یہ نامہ نگار انہی کی مہربانیوں سے آپنے چینل کی چاکری کرتے ہوئے شہر میں اپنا دبدبہ بنائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر در حقیقت وہ خود ایک ڈر سے نبرد آزما ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی چوک ہو گئی تو سیاسی آقا اوپر فون کر کے اپنی چھٹی بھی کروا سکتا ہے ۔ جب صحافتی میدان میں کٹھ پتلی نما قلم کے سپاہی ان انگلیوں کے اشاروں پر ہوتے ہیں جس کی ڈور ان کے آقا آپنے مطابق کھینچتے اور چھوڑتے ہیں ایسے ماحول میں وہ صحافی جو حق گوئی کا ہنر رکھتا ہے اور جو صحیح معنوں میں صحافت کا حق ادا کرنے کا جذبہ رکھتا ہے، وہ اپنے آپ کو زرد صحافت کے اندھیرے میں گم محسوس کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اخبارات کی سرخیوں میں کبھی کبھی ایک سرخی اس حق گو صحافی کی موت کی بھی بن جاتی ہے ۔ میدان صحافت میں جب ہم صحافت اور صحافیوں کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ مسائل اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ زرد صحافت کے قلم کار پوری کہانی کا ہیرو بننے کی کوشش میں ویلن کے ہاتھوں اصلی ہیرو ہیرو کا قتل کروا دیتے ہیں اور پھر ماحول پر چھا جاتا ہے زرد صحافت کا کہرا اور اسی کہرے میں جنم لیتے ہیں صحافت اور صحافیوں کے مسائل۔
صحافت سے منسلک وہ صحافی جو 15اور 20 سالوں سے اس شعبے میں کسی نہ کسی میڈیا سے منسلک ہو کر اپنے قلم کی جولانیاں دکھا رہے ہیں اور جن کا کوئی سیاسی آقا نہیں، وہ ہر کسی کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور جب ان کا قلم اٹھتا ہے تو وہ سسٹم کو اپنے نشانے پر لیتا ہے نہ کہ کسی سیاسی لیڈر کو. وہ صحافی جو بے باکی سے لکھنے کو اپنی شان سمجھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں مگر انہیں کسی کی واہ واہی اور تالیوں کا کالچ نہیں، ایسے صحافی خود کو اکیلا اور بے محسوس کرتے ہیں اور جب حق بات کہہ دینے پر یہ ہوتا کہ انہیں دھمکیاں تک ملنے لگتی ہیں پھر اکٹھا ہوتی ہے حق گوئی کی طاقت اور ظہور ہوتا ہے نیشنل میڈیا کلب کا۔ نیشنل میڈیا کلب
ایسے ہی اچانک نہیں تشکیل پایا۔ پچھلے کئی مہینوں سے اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی.  شہر عزیز کے تین نوجوان صحافی ہندی ہفت روزہ پولس پریاس کے مدیر رئیس شیخ، روزنامہ اردو ٹائمز کے سینئر صحافی خیال اثر اور الیکٹرانک میڈیا کا 10 سالہ تجربہ رکھنے والے صحافی وسیم رضا خان پچھلے 4 مہینوں سے اس کلب کی منصوبہ بندی کر رہے تھے. چونکہ اس کلب کو نہ صرف ایک زبان یا صرف ایک شہر تک محدود رکھنا تھا بلکہ نیشنل میڈیا کلب  کو ملکی سطح پر متعارف کرنا تھا، اس لیے ایسی تنظیموں سے رابطہ کرنا جو پورے ملک میں کام کر رہی ہیں. ان لوگوں سے ربط بڑھانا جو ملکی سطح کی کسی تنظیم کا حصہ ہیں تاکہ ملکی سطح پرکام کرنے والی تنظیم سے متعلق تمام تر معلومات حاصل کی جا سکے.
تمام تر تجرباتی مراحل سے گزرنے کے بعد جب محسوس کیا گیا کہ اب تنظیم کو متعارف کر دینا چاہیے، پھر تمام اغراض و مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ نیشنل میڈیا کلب  نامی تنظیم اب پورے ملک سے بے باک، نڈر اور غیر جانبدار صحافیوں کو جوڑ کر میدان صحافت سے ان تمام غلبوں کی گرد کو صحافت سے صاف کرنے کی کوشش کرے گی جو زرد صحافیوں کے ذریعے چھڑکی گئی ہے. زرد صحافت کی تمام گندی اور کٹھ پتلی نما ذہنیت کو ہٹایا جائے گا جو قلم کی بے باکی میں آڑے آتی ہیں۔ حکومت کے تمام شعبوں میں کلب کے ممبران اپنی موجودگی ظاہر کریں گے تاکہ حکومت اور لیڈران کے پگارو صحافیوں کا صفایا کیا جا سکے. ایسے پانچویں فیل توڑی باز، خود کوپترکار کہلوانے والے افراد پر بھی لگام کسی جائے گی ۔ صحافیوں کو حکومت سے منظوری حاصل کرنے کیلئے جو دشواریاں پیش آتی ہیں ان کا بھی سدباب کیا جائے گا. حق گوئی پر سیاسی چمچے جو صحافیوں کو دھمکیاں دینے کیلئے معمور کیے جاتے ہیں ان کے خلاف بھی ٹھوس اقدام کیے جائیں گے (بشمول سیاسی آقا) صحافت کے نام پر توڑی بازی، قلمی غنڈہ گردی، انتہا پسندی، سیاسی باپوں کی دھمکی دے کر حکومت کے کارندوں سے غلط فیصلے دلوانا، صحافیوں کی بے قدری اور ان کو ہلکے میں لیتے ہوئے دھمکیاں دینا اور ایسے اور بھی مسائل جو کسی بھی صورت میں کبھی بھی پیدا ہو جاتے ہیں ایسے تمام صحافیوں کے مسائل کے سدباب کیلئے نیشنل میڈیا کلب تشکیل دیا گیا ہے. کلب کے عہدیداران اور شامل ممبران تمام صحافی دوستوں، قلمکاروں سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں کہ کلب کے ممبران بن کر صحافیوں کی طاقت کو بڑھاتے ہوئے اپنے حق گو اور بے باک ہونے کا ثبوت دیں.
کلب کی ممبر کے فارم جلد ہی تمام میڈیا ذرائع سے آپ تک پہنچ جائیں گے. مزید معلومات کیلئے رابطہ قائم کریں۔