سنبھل:9اکتوبر(پریس ریلیز)جموں و کشمیر کے نوجوان ادیب ،قلم کار اور صحافی غلام نبی کمار کو بتاریخ۹ /اکتوبر۸۱۰۲ کو سنبھل میں مدرسہ بنیادی تعلیم القرآن کی جانب سے منعقدہ یک روزہ قومی سیمینار بعنوان”ہندوستان میں سائنس صحافت اور اردو“کے موقعے پراردو زبان و ادب کے سلسلے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ”حماد احمد ادبی ایوارڈ “سے سرفراز کیا گیا۔یہ ایوارڈ انہیں پروفیسر عارف حسن خاں،سابق رکن لکھنو¿ اردو اکادمی سید محمد ہاشم ڈاکٹر فرقان سنبھلی،ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی کے بدست دیا گیا۔حماد احمد نہ صرف سنبھل بلکہ ریاست اترپردیش کے ایک عظیم سماجی اور اصلاحی کارکن تھے جنھوں نے کئی مدرسے قائم کیے اور زندگی بھرخواتین کی تعلیم و تربیت پر زور دیتے رہے۔دیپا سرائے سنبھل میں آزاد گرلس ڈگری کالج انہیں کا قائم کردہ ادارہ ہے۔غلام نبی کمار نے کل اسی کالج میں منعقدہ سیمینار میںاپنا مقالہ”اردو زبان میں سائنسی صحافت“پڑھا اور اسی دوران کی عزت افزائی بھی کی گئی۔ان کے ساتھ ساتھ عارف حسن خاں،شاکر حسین اور ڈاکٹرایم۔اے۔ معروف کو بھی اعزازات دیے گئے۔غلام نبی کمار ان دنوںدہلی یونیورسٹی میں” زبیر رضوی کی ادبی خدمات کا تنقیدی مطالعہ“کے موضوع پر ڈاکٹر مشتاق عالم قادری کی نگرانی میںپی۔ایچ۔ڈی کر رہے ہیں۔اس سے قبل انہیںپروفیسر ارتضیٰ کریم کی نگرانی میں”دہلی یونیورسٹی کی سینٹرل لائبریری میں موجود رسائل و جرائد کا وضاحتی اشاریہ“پر ایم ۔فل کی ڈگری تفویض ہوئی ہے۔غلام نبی کمارتحقیقی ،تنقیدی اور صحافتی میدان میں بہت فعال ہیں۔جن کی ادارت میں سہ ماہی”پنج آب“شائع ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ منصور خوشتر کی ادارت میں شائع ہورہا رسالہ”دربھنگہ ٹائمز“ اور”تحقیق“کے معاون مدیر اور”سبق اردو“ کے ایڈوائزی ممبر بھی ہیں۔پچھلے کچھ گذشتہ برسوں سے غلام نبی کمار کے کثرت سے تحقیقی و تنقید ی مضامین شائع ہوئے ہیں۔موصوف ادارہ شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر بھی ہیں۔ اس وقت ان کی کتاب”اردو کی عصری صدائیں“پریس میں ہے اور بہت جلد اس کے منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔حماد احمد ایوارڈ ملنے پر غلام نبی کمار کو کئی اہل علم حضرات نے مبارک باد دی ہے جن میں پروفیسر صادق،ڈاکٹر حنیف ترین،ڈاکٹر حافظ کرناٹکی ،ڈاکٹر منصور خوشتر،ڈاکٹر نذیر مشتاق،سالک جمیل براڑ،ڈاکٹر داو¿د محسن،ناظم نذیر،ریاض توحیدی،عادل اشرف،پرویز مانوس،شاہد رضا،بشیر چراغ،منظور احمد کمار،عاصم اسعدی،ابرار اجراوی،طارق شبنم وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔







اپنی رائے یہاں لکھیں