میکسیکو: انسانی اعضا بیچنے والے جوڑے کا 20 خواتین کے قتل کا اعتراف

میکسیکو میں پولیس ایک ایسے جوڑے سے تفتیش کر رہی ہے جس پر بچہ گاڑی میں انسانی اعضا چھپا کر لے جانے اور کم از کم دس افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے بعد ایک سماعت کے دوران کارلوس نامی مرد نے اعتراف کیا کہ اس نے میکسیکو سٹی کے مضافات میں 20 عورتوں کو قتل کیا ہے۔

تفتیش کاروں کو جوڑے کے فلیٹ اور قریب ہی واقع ایک اور عمارت سے انسانی اعضا ملے جو سیمنٹ سے بھری بالٹیوں اور فریج میں رکھے ہوئے تھے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ جوڑا انسانی اعضا بیچا کرتا تھا، لیکن یہ نہیں معلوم کہ ان کا گاہک کون تھا۔اس کیس کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سے میکسیکو سٹی کے مضافات میں واقع غریب علاقے میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

میکسیکوتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionکیس کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سے میکسیکو سٹی کے مضافات میں واقع غریب علاقے میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں

’ماں مار دی اور بچہ بیچ دیا‘

اس جوڑے کے ہمسائیوں نے بتایا ہے کہ انھیں ہمیشہ اس بچہ گاڑی سمیت دیکھا جاتا تھا جس سے پولیس کو انسانی اعضا ملے ہیں۔

پولیس نے اس جوڑے کو ستمبر میں اس وقت شامل تفتیش کیا جب ایک 28 سالہ مقامی عورت نینسی اور اس کا دو ماہ کا بچہ لاپتہ ہوئے۔

سماعت کے دوران کارلوس نے اعتراف کیا کہ اس نے نینسی کو قتل کیا اور اس کے ساتھ دو مزید خواتین کے نام بھی بتائے جن کو اس نے قتل کیا۔ ان میں ایک 23 سالہ آرلٹ اور 29 سالہ ایویلین ہیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ کارلوس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے اس نے چند خواتین کو مارنے سے قبل جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنایا اور بعد میں ان کی قیمتی اشیا اور چند انسانی اعضا بیچ دیے۔

میکسیکوتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionمیکسیکو اپنے خطے میں وہ ملک ہے جہاں پر ہر سال لاپتہ ہونے والی خواتین کی شرح سب سے زیادہ ہے

کارلوس نے جن تین خواتین کو مارنے کا اعتراف کیا ہے وہ تینوں حالیہ مہینوں میں لاپتہ ہوئی تھیں۔

نینسی اپنی دو ماہ کی بچی کے ہمراہ چھ ستمبر کو اس وقت لاپتہ ہوئی تھیں جب انھوں نے اپنی دو بڑی بیٹیوں کو سکول چھوڑا۔جب نینسی چھٹی کے وقت سکول نہیں پہنچیں تو ہمسائیوں نے شور مچا دیا۔

میکسیکو

پولیس کو نینسی کی بیٹی ویلنٹینو مل گئی ہے جس کو اس جوڑے نے بیچ دیا تھا۔ اس بچی کو اس کی نانی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ خواتین کارلوس اور اس کی ساتھی پیٹریشیا کو اس لیے جانتی تھیں کیونکہ یہ جوڑا کپڑے اور خوراک بیچا کرتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیٹریشیا ان خواتین کو مزید اشیا دکھانے کے بہانے مکان میں لاتی تھی۔

نینسیتصویر کے کاپی رائٹEDOMEX PROSECUTOR’S OFFICE
Image captionپولیس نے اس جوڑے کو ستمبر میں اس وقت شامل تفتیش کیا جب ایک 28 سالہ مقامی عورت نینسی اور اس کا دو ماہ کا بچہ لاپتہ ہوئے

پولیس کا کہنا ہے کہ جب کارلوس کو گرفتار کیا گیا تو اس نے پولیس سے پہلے نہانے اور سوٹ پہننے کی اجازت مانگی اور کہا کہ ’میں گھٹیا مجرم نہیں ہوں‘۔

میکسیکو اپنے خطے میں وہ ملک ہے جہاں پر ہر سال لاپتہ ہونے والی خواتین کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ رواں سال جنوری سے اپریل کے دوران میکسیکو میں 395 لوگ لاپتہ ہوئے جن میں سے 207 خواتین تھیں۔

شکریہ بی بی سی اردو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading