مسلمان نوجوان سے ہمدردی گمبھیر کو مہنگی پڑیگی

نئی دہلی۔27 مئی. مشرقی دہلی سے بی جے پی کو منتخب رکن پارلیمان گوتم گمبھیر خود اپنی ہی جماعت کے مخالفین کے نرخے میں گھر گئے ہیں جب انہوں نے گرگاﺅں میں ایک نوجوان مسلمان کے ساتھ بدتمیزی اور اسے اپنے سر سے ٹوپی اتارنے پر مجبور کرنے کے خلاف ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ”ہم ایک سکیولر قوم ہیں“ انہوںنے اس سلسلے میں فلمی گیت کار جاوید اختر کے مشہور فلم لگان کے ایک گانے کا حوالہ بھی دیا تھا۔ ان کے ٹوئٹ کے جواب میں کشور بھرشوال نے جو اپنے نام کے ساتھ چوکیدار لگاتے ہیں گمبھیر سے کہا کہ متھرا کے یادو کے بارے میں بھی لکھنو جسے لسی کے دام مانگنے پر قتل کردیا گیا یا پھر چپ رہو۔ انکیت جین جو بی جے پی کے حمایتی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اس نے گمبھیر کو صلاح دی کہ ہر واقعہ پر بات کیا کریں ان واقعات کے متعلق بھی جو ہندوﺅں کے خلاف ہوتے ہیں ورنہ خاموش رہا کریں۔ گوتم گمبھیر کے سکیولرازم پر سوالات کی بوچھاڑ کے نتیجے میں انہوں نے سکیولرازم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے یہ خیالات دراصل مودی کے ”سب کا ساتھ سب کا وکاس“ منتر ہی سے اخذ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے گڑگاﺅں تک اپنے آپ کو محدود نہیں کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات اور مذہب کی اساس پر ہونے والا ہر ظلم قابل مذمت ہے۔ ہندوستان کا تصور رواداری پر مبنی ہے۔ بی جے پی کے حمایتوں نے گمبھیر کو مشورہ دیا کہ وہ کسی مخصوص طبقے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہ کریں اور گرگاﺅں جیسے واقعات کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کے ساتھ ہونے والے واقعات پر بھی ہمدردانہ تبصرہ کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading