پاکستان نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کر لیے
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر چین سے آنے والی تمام پروازوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی مسافر کو سکریننگ کے بغیر ائیر پورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ وائرس کے ٹیسٹ کے لیے بیرونی ملک لیبارٹریوں سے رابطے میں ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق نئے وائرس کو ‘نویل کرونا وائرس 2019’ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے علاج کے لیے کوئی دوا موجود نہیں۔ یہ تیزی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو رہا ہے۔
کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی۔ حکومت نے 10 شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ بند کرنے اور مریضوں کے علاج کے لیے ہنگامی بنیاد پر نئے اسپتال تعمیر کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
چین نے وسطی شہر ووہان جانے والی ٹرینوں پر پابندی لگا دی ہے جب کہ طیاروں کو بھی ووہان جانے سے روک دیا ہے۔ امریکی کار ساز کمپنی جنرل موٹرز نے عارضی طور پر کام بند کر دیا۔
چین کے علاوہ تھائی لینڈ نے کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کی ہے، جبکہ جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان نے بھی ایک ایک کیس کی نشاندہی کی ہے۔ یہ تمام متاثرہ افراد چین کے شہر ووہان سے وہاں پہنچے تھے۔
جنوبی کوریا کی ایک 35 سالہ خاتون میں بھی اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے جو جنوبی کوریا کا پہلا کیس ہے۔ خاتون نے حال ہی میں ووہان کا سفر کیا تھا۔