آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ٹرمپ کی منگل کو ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک سخت بیان جاری کیا ہے، جس میں انھوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کو نہ کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے اس اہم تجارتی راستے کو نہ کھولا تو شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا اور ایران ’پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے چھ اپریل تک کھولنے کی ایک اور مہلت دی ہے اور ساتھ یہ دھمکی بھی کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

جنگ کے دوران انھوں نے کئی مرتبہ ڈیڈلائن دی اور پھر اسے تبدیل کیا۔

آئیے یہاں ان ڈیڈلائنز کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:

پہلی ڈیڈلائن: 21 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر اہم تجارتی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز نہ کھولی تو وہ ’بجلی کی اہم اور بڑی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ ’بڑے پاور پلانٹس کو ’تباہ اور ختم‘ کر دیں گے۔‘

دوسری ڈیڈلائن: پھر 21 مارچ کے دو دن بعد انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔

تیسری ڈیڈلائن: 27 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر توانائی کے پلانٹس پر حملہ 10 دن کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے، جس سے ڈیڈلائن 6 اپریل تک بڑھ گئی۔

48 گھنٹے کی وارننگ: اب سنیچر یعنی گزشتہ روز جب 6 اپریل کی ڈیڈلائن قریب تھی، انھوں نے ایران کو خبردار کیا کہ ان کے پاس ’48 گھنٹے‘ ہیں اور اگر اس کے دوران آبنائے ہرز کو نہ کھولا گیا اور کسی معاہدے تک نہ پہنچے تو ایران پر شدید نوعیت کے حملے کیے جائیں گے۔

حالیہ دھمکی: آج یعنی اتوار پانچ اپریل کو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک اور انتہائی سخت بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے ایران کو ایک مرتبہ پھر یہ دھھمکی دی ہے کہ اگر ایران امریہ کی بات نہیں مانتا اور آبنائے ہرمز نہیں کھولتا تو اُنھیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔

اہم سیاسی قیادت اور مُلکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا: اسرائیلی وزیرِ دفاعاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اگر ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل پر اپنے حملے جاری رکھے تو وہ ایرانی قیادت کا تعاقب اور انھیں ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ اہم ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔‘

کاٹز نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’جب تک میزائل داغے جاتے رہیں گے اور اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا، ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، جس کے نتیجے میں اس کے قومی انفراسٹرکچر اور نظام کی عملی صلاحیتیں مفلوج ہو جائیں گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی دوران ہم دہشت گرد قیادت کا تعاقب اور اسے غیر مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ ایران بھر میں سکیورٹی اہداف اور سٹریٹجک وسائل پر حملے جاری رکھیں گے۔‘

28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں متعدد سیاسی اور عسکری رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں صنعتی تنصیبات، پلوں اور شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading