ممبئی: کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ناسک کے مبینہ ڈھونگی بابا اشوک کھرات کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی صرف رسمی یا سطحی جانچ کے بجائے اس کی جڑ تک جا کر تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ جانچ کی جائے تو کئی اہم چہروں سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا کہ وہ محض نمائشی کارروائی کے بجائے اشوک کھرات کا نارکو ٹیسٹ کرائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
ممبئی کے تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہایوتی حکومت کے کئی وزراء اور ارکانِ اسمبلی اشوک کھرات کے پاس جا چکے ہیں، اس سے مذہبی رسومات کروائی ہیں اور اس کے زیر اثر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں توہم پرستی مخالف قانون موجود ہونے کے باوجود اگر خود حکومتی نمائندے اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں تو یہ مہاراشٹر کی ترقی پسند شناخت کے خلاف ہے اور آئین کی روح کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی وزیر، رکن اسمبلی یا سیاسی لیڈر اشوک کھرات کے دربار میں گئے اور اس سے فائدہ اٹھایا، ان سب کے خلاف توہم پرستی مخالف قانون کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔
نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سپکال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق اشوک کھرات نے اجیت پوار کی تصویر پر نشان لگایا تھا، جو ایک سنگین نوعیت کا عمل ہے اور اس کا موازنہ ایسے اقدامات سے کیا جا رہا ہے جو انتہا پسند عناصر اپنے اہداف کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اجیت پوار کی رہائش گاہ کے باہر مبینہ طور پر کچھ پراسرار مذہبی رسومات انجام دی گئی تھیں۔ ان کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اقتدار میں تبدیلی یا کسی کو عہدے سے ہٹانے اور کسی اور کو اس مقام پر لانے کے لیے اس طرح کی رسومات کی جاتی رہی ہیں، جو نہایت تشویشناک معاملہ ہے اور اس پر سنجیدہ کارروائی ہونی چاہیے۔
ممبئی کی میونسپل کارپوریشن کی میئر ریتو تاوڑے کے اس بیان پر، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جین سادھوؤں کی دعاؤں سے ان کا گلا ٹھیک ہوا، سپکال نے طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو یہ ایک نیا ’انکشاف‘ ہے اور اس پر انہیں نوبل انعام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس طرح کے بیانات کو غیر سائنسی اور عوام کو گمراہ کرنے والا قرار دیا۔