کرونا وائرس خطرناک ہے لیکن گزشتہ صدی کی وباؤں سے زیادہ نہیں
کرونا وائرس کی وبا پھیلنے سے قبل بھی رواں صدی میں کئی دیگر مہلک وبائیں مختلف ممالک میں پھیلی ہیں۔ لیکن 20 ویں صدی میں پھیلنے والی وبائیں 21 ویں صدی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک، مہلک اور جان لیوا تھیں۔
پاکستان کے ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عثمان جنجوعہ چین کی چانگشا ميڈيکل يونيورسٹی ميں لیکچرر ہیں اور انہوں نے ووہاں جا کر کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے اپنی خدمات پیش کیں ہیں۔
چین میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں 20 برس قبل سانس کی بیماری ‘سارس’ سے مرنے والوں کی تعداد سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ صرف دس روز میں تعمیر ہونے والا اسپتال پیر کو فعال ہونے جا رہا ہے۔
اس سے قبل سانس کے خطرناک مرض سارس کے خلاف تیار کی جانے والی ویکسین کے لیبارٹری ٹرائل شروع کرنے میں 20 مہینے لگ گئے تھے۔
پاکستان کے صحت کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کی تشخیص کے آلات حاصل کر لیے گئے ہیں، جس سے اب ملک کے اندر اس موذی مرض کی تشخیص کی جا سکے گی۔
حکام نے 24 گھنٹوں میں مزید 45 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ جس کے بعد وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 304 ہو گئی ہے۔ فلپائن میں حکام نے کرونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔ چین سے باہر یہ پہلی ہلاکت ہے۔
جمعے کو چین میں 46 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ دو ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے ان غیر ملکوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے جو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چین میں مقیم رہے ہوں۔
بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی ادارے کی مرتب کردہ اس رپورٹ کے مصنف رابرٹ اینڈرسن کہتے ہیں کہ ہمیں یہ توقع رکھنی چاہیے کہ مستقبل میں اضافے کا یہ رجحان جاری رہے گا۔