کانگریس کی حکمت عملی کوجھٹکا

0 3

نئی دہلی ،21ستمبر(پی ایس آئی)2019 کے عام انتخابات سے پہلے بی جے پی کو ریاستوں میں گھیرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی کانگریس کو جھٹکا لگا ہے. یہ جھٹکا بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے آیا ہے. بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے چھتیس گڑھ میں کانگریس کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ لیتے ہوئے مخالف خیمے کے اجیت جوگی کے ساتھ جانے کا اعلان کر دیا ہے. اتنا ہی نہیں، مایاوتی نے مدھیہ پردیش اسمبلی کی 22 سیٹوں پر بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے. آپ کو بتا دیں کہ اس سال کے آخر میں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں. کانگریس کے لئے ان ریاستوں میں جیت بہت ضروری ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا تو 2019 سے پہلے ہی پارٹی کے امکانات لاغر ہو جائیں گی. اس لحاظ سے کانگریس نے ان ریاستوں میں اتحاد کے لئے بھی خود کو اوپن کیا تھا. خاص طور پر چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس کی بات چیت بی ایس پی کے ساتھ چل رہی تھی. مایاوتی نے یوپی میں مہااتحاد کے ساتھ ان تینوں ریاستوں میں بھی قابل احترام سیٹوں کی مانگ کی تھی. سیٹ شیئرنگ کو لے کر کوئی فارمولہ نہیں بننے کی وجہ سے مایاوتی نے اجیت جوگی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کر دیا. یہ جھٹکا اس وقت لگا جب کانگریس کی مقامی قیادت مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ، دونوں ہی جگہوں پر بی ایس پی کو اپنے ساتھ مان کر چل رہی تھی. رپورٹس کے مطابق بی ایس پی نے مدھیہ پردیش کی 230 رکنی اسمبلی میں 50 اور چھتیس گڑھ کی 90 رکنی اسمبلی میں 15 سیٹوں کی مانگ کی تھی. کانگریس لیڈروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے دباو¿ کی وجہ سے مایاوتی نے ایسی مانگ رکھی کہ اتحاد ممکن ہی نہ ہو. ادھر، راجستھان کانگریس پردیش میں کسی بھی طرح کا اتحاد نہ کرنے کی وکالت کی تھی. چھتیس گڑھ کے بعد اب اگر مدھیہ پردیش میں بھی مایاوتی کانگریس سے الگ لڑنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو یہ گرینڈ اولڈ پارٹی کے لئے تگڑا جھٹکا ہوگا. ان دونوں ریاستوں میں چھوٹا سا ہی سہی لیکن بی ایس پی کا اپنا ووٹ بینک ہے. مہینوں پہلے کانگریس بی ایس پی کے ممکنہ اتحاد کا ذکر کر کانگریس بی جے پی مخالف ووٹوں کو متحد کرنے کی کوشش میں لگی تھی. اب بی ایس پی نے اپنی راہ جدا کر لی ہیں تو یہ کانگریس کے لئے مسئلہ کی بات ہے.