جمعہ کے روز مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں نمازیوں کا بہت بڑا ہجوم دیکھا گیا جب کہ کئی برس کے بعد 20 لاکھ سے زائد عازمین حج سعودی عرب کی شدید گرمی میں فریضہ حج ادا کریں گے۔
سالانہ عبادت کی ادائیگی کے لیے ہوائی جہازوں، بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے سفید لباس میں ملبوس حجاج دنیا کے قدیم شہر پہنچے جہاں اب جدید ترین لگژری ہوٹلز اور ایئر کنڈیشنڈ شاپنگ مالز نظرآتے ہیں۔
حکام نے کہا کہ رواں سال کا حج دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماعات میں سے ایک ہوگا جہاں حاضری کا ریکارڈ توٹ سکتا ہے۔
سعودی وزیر حج و عمرہ رواں ہفتے وزارت کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ جیسے حج قریب آ رہا ہے، سلطنت سعودی عرب تاریخ کے سب سے بڑے اسلامی اجتماع کی تیاری کر رہی ہے۔
دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں عازمین حج کی حجاز مقدس آمد پر حج سے قبل آج آخری نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے خانہ کعبہ میں شدید رش کے مناظر دیکھنے میں آئے۔
ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق سعودی انتظامیہ نے اس موقع پر عازمین حج کی آسانی اور رہنمائی کے لیے خصوصی انتظامات کیے اور رش کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ علی الصبح ہی بند کر دی گئی۔
خانہ کعبہ میں لاکھوں کی تعداد میں عازمین حج نے نماز جمعہ ادا کی، اس موقع پر پوری امت مسلمہ کی فلاح و بہبود ، سلامتی ، امن اور مرحومین کی مغفرت کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ توفیق الربیعہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت کا سفر کرنے والے عالمی عازمین حج کی لاگت میں 39 فیصد کمی کی گئی ہے