,بہمن کلباسی/بی بی سی فارسی
ایران کے آئین میں اس حوالے سے واضح ہدایات ہیں کہ جب ملک کا صدر بیماری، موت یا مواخذے کے نتیجے میں مزید کام نہ کر سکے۔ایسے میں نائب صدر، جو فی الحال محمد مخبر ہیں، ملک چلاتے ہیں۔ وہ پارلیمان اور عدلیہ کے سربراہان کے ساتھ مل کر زیادہ سے زیادہ 50 روز میں نئے صدر کا الیکشن کرواتے ہیں۔
مگر یہ صرف رہبر اعلیٰ کی تصدیق کے ساتھ ممکن ہے جو کہ ایران میں تمام معاملات پر حتمی فیصلہ دیتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ابراہیم رئیسی کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ اب ایران میں صدارتی انتخاب ہوگا جس کے حوالے سے عوام میں بظاہر گذشتہ الیکشن کے مقابلے زیادہ دلچسپی ہوگی۔
گذشتہ الیکشن میں رئیسی کے مدمقابل تمام اہم امیدواران کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ محض 30 فیصد اہل ووٹروں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا جبکہ اکثریت نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔
ایک گھنٹہ قبلایرانی صدر کی ہلاکت پر پاکستان، انڈیا اور حماس کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کی ہلاکت پر یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ’وہ پاکستان کے اچھے دوست تھے۔‘
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انھیں اس واقعے پر ’صدمہ پہنچا ہے۔۔۔ انھوں نے انڈیا اور ایران کے مشترکہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔۔۔ غم کے اس لمحے میں انڈیا ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
ایک بیان میں حماس نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ فلسطینی گروہ، جو غزہ میں اسرائیل کے خلاف حالت جنگ میں ہے، نے کہا کہ ’ہم برادر ملک ایران سے مشترکہ دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے پر ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی ظاہر کرتے ہیں۔ اس واقعے نے ایران کے بہترین رہنماؤں کی جانیں لے لیں۔‘
حماس کو امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد مغربی ممالک دہشتگرد گروہ قرار دیتے ہیں۔
حسین امیر عبداللہیان کے بعد ایران کے نئے وزیر خارجہ کون ہوں گے؟
حسین امیر عبداللہیان،تصویر کا ذریعہREUTERS
ہیلی کاپٹر کے حادثے میں حسین امیر عبداللہیان کی ہلاکت کے بعد خیال ہے کہ ایرانی حکومت نئے وزیر خارجہ کا اعلان کرے گی۔
آئین کے آرٹیکل 135 کے مطابق جب کسی وزارت کا کوئی وزیر نہ ہو تو صدر کسی شخص کا انتخاب کر کے انھیں تین ماہ کے لیے اس وزارت کا سربراہ نامزد کر سکتے ہیں۔
ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟
ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان کے علاقے ورزقان میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ،تصویر کا ذریعہREUTERS
،تصویر کا کیپشنایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان کے پہاڑی علاقے ورزقان میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ملک کے شمال مغربی علاقے میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کی موت کی تصدیق کی ہے
وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر مسافر بھی اس حادثے میں ہلاک ہوئے ہیں
سرکاری ٹی وی کے مطابق رئیسی ایران کے شہر تبریز جا رہے تھے جب ان کے ہیلی کاپٹر کی ’ہارڈ لینڈنگ‘ ہوئی۔ صوبہ مشرقی آذربائیجان کے دورے پر انھوں نے آذربائیجان کے صدر کے ساتھ مل کر ایک ڈیم کا افتتاح کیا تھا
صدر رئیسی کی ہلاکت کی تصیق سے قبل تہران میں لوگ ان کی صحت کے لیے دعا گو تھے
حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر کی کھوج کے لیے وسیع پیمانے پر ایک ریسکیو آپریشن کیا گیا جو کہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا
روس، آذربائیجان اور آرمینیا سمیت کئی ملکوں نے ایران کو ریسکیو آپریشن میں مدد کی پیشکش کی تھی۔ ترکی نے ایران میں ریسکیو ٹیم اور ڈرون بھیجا تھا
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی ان پہلے عالمی رہنماؤں میں سے ہیں جنھوں نے صدر رئیسی کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے ہمسایہ ملک پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم سوگ کا اعلان کیا ہے
ابراہیم رئیسی ایران میں طاقت کے سر چشمے کے بہت قریب تھے,لیز ڈوسیٹ/بی بی سی
ابراہیم رئیسی،تصویر کا ذریعہREUTERS
وہ اسلامی جمہوریہ ایران میں طاقت کے سر چشمے کے بہت قریب تھے اور امکان تھا کہ وہ اعلی ترین مقام یعنی اگلے رہبر اعلیٰ بن جائیں گے۔
مگر ایک ڈرامائی موڑ نے ایسا نہ ہونے دیا۔
اتوار کو ایرانی صدر کی ہیلی کاپٹر حادثے میں اچانک موت نے 85 سال کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کے حوالے سے افواہوں کو ہوا دی ہے۔ موجودہ رہبر اعلیٰ کی صحت طویل عرصے سے توجہ حاصل کرتی رہی ہے۔
ایران کے سخت گیر صدر کا افسوس ناک اور غیر متوقع انجام ایرانی پالیسی کو زیادہ تبدیل نہیں کرے گا۔ مگر یہ ایران کے اس نظام کا امتحان لے گا جس میں منتخب اور غیر منتخب قدامت پسند طبقہ غالب ہے۔
سابق پراسیکیوٹر ابراہیم رئیسی کے ناقدین ان کی وفات کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ 1980 کی دہائی کے دوران سیاسی قیدیوں کو سزائے موت دینے میں ان کا اہم کردار تھا۔ مگر رئیسی اس کی تردید کرتے تھے۔
ناقدین کو امید ہوگی کہ اس واقعے سے ایران میں برسرِ اقتدار قوتیں اپنے انجام کو پہنچیں۔
سرکاری اعزاز میں جذبات سے بھری آخری رسومات کے دوران ایران کے روایت پسند حکمران تسلسل کا عندیہ دیں گے۔
مگر مجلس خبرگان رہبری میں ایک اہم پوزیشن بھرنا بھی مقصود ہوگا جو ابراہیم رئیسی کے پاس تھی۔ یہ کمیٹی نئے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتی ہے۔
ایک گھنٹہ قبلہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے مزید تین افراد کی شناخت ظاہر کر دی گئی
ایران میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والے مزید تین افراد کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یہ تینوں افراد ہیلی کاپٹر کے عملے کا حصہ تھے۔ ان میں پائلٹ کرنل سید طاہر مصطفوی، پائلٹ کرنل محسن دریانوش اور میجر بہروز شامل ہیں۔
محمد مخبر دو ماہ کے لیے ایران کے عبوری صدر مقرر
محمد مخبر،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنپیر کی صبح محمد مخبر نے ایرانی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد ملک کے نائب صدر محمد مخبر نے دو ماہ کے لیے ملک کی صدارت سنبھال لی ہے۔
محمد مخبر کی بطور عبوری صدر تقرری کا اعلان پیر کو ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی منظوری کے بعد کیا گیا۔
ایران کے آئین کے مطابق ملک میں 50 دن کے اندر دوبارہ صدارتی انتخاب کروایا جائے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 131 کے مطابق صدر کی موت کی صورت میں، ان کا نائب ’قیادت کی منظوری سے، اپنے اختیارات اور ذمہ داریاں سنبھالتا ہے، اور اسمبلی کے سپیکر، عدلیہ کے سربراہ اور عبوری صدر زیادہ سے زیادہ 50 دنوں کے اندر نئے صدر کے انتخاب کا انتظام کرنے کے پابند ہیں۔‘
ابراہیم رئیسی کے نائب بننے سے پہلے، محمد مخبر دیزفولی تقریباً 15 سال تک ایرانہ کے امیر ترین اقتصادی گروپوں میں سے ایک ’ستاد اجرائی فرمان امام‘ کے ایگزیکٹو سٹاف کے سربراہ تھے۔ یہ گروپ براہ راست اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور کسی بھی ادارے کو جوابدہ نہیں ہے۔