لوک سبھا انتخابات LIVE: بی جے پی اپنی قوت پر حکومت سازی کرنے سے بہت دور، این ڈی اے ٹوٹنے کا خوف!
18ویں لوک سبھا کے لیے 542 سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل یکم جون کو انجام پا گیا تھا اور آج ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ لوک سبھا سیٹوں کی تعداد 543 ہے، لیکن سورت (گجرات) پارلیمانی سیٹ پر بی جے پی امیدوار کو پہلے ہی بلامقابلہ منتخب کر لیا گیا۔ بہرحال، اس مرتبہ مجموعی طور پر 8360 امیدوار انتخابی میدان میں اترے جن کی قسمت کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔ سات مراحل میں ہونے والے انتخاب میں 28 ریاستوں و 8 مرکز کے زیر انتظام خطوں کی جن لوک سبھا سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے، وہاں مجموعی طور پر 65.14 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔
لوک سبھا انتخاب کے رجحانات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ بی جے پی اور این ڈی اے کی سیٹیں لگاتار کم ہو رہی ہیں اور خاص طور سے بی جے پی تن تنہا حکومت سازی کرتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ بی جے پی 272 کے جادوئی نمبر سے بہت پیچھے 241 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہے۔ اس نے ایک سیٹ (سورت) پر پہلے ہی جیت درج کر لی ہے۔ اس طرح وہ اکثریت سے 20 سیٹ پیچھے ہے۔ اب ایسے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ این ڈی اے میں ٹوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
تلنگانہ میں 13 لوک سبھا سیٹوں کے جو رجحانات سامنے آ رہے ہیں وہ کانگریس کے لیے جہاں حوصلہ افزا ہیں، وہیں بی آر ایس کے لیے مایوس کن ہیں۔ کانگریس امیدوار 8 لوک سبھا سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیں اور بی آر ایس کو ایک بھی سیٹ پر سبقت حاصل نہیں ہے۔ 8 سیٹوں پر بی جے پی امیدوار اور ایک سیٹ پر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین امیدوار کو سبقت ہے۔ 2019 لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ کی 9 لوک سبھا سیٹوں پر بی آر ایس نے، 3 لوک سبھا سیٹوں پر کانگریس اور 4 لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی نے جیت حاصل کی تھی۔ علاوہ ازیں آل انڈیا اتحادالمسلمین کو ایک سیٹ پر کامیابی ملی تھی۔