مہاراشٹر کی سیاست میں تاریخ کو مسخ کرنے اور عظیم شخصیات کی قربانیوں کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے، وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ حال ہی میں پونے اور ریاست کے دیگر حصوں میں جس طرح بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں نے ٹیپو سلطان کے حوالے سے ایک بے بنیاد تنازعہ کھڑا کیا اور کانگریس کے دفاتر کو نشانہ بنایا، وہ ان کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ٹیپو سلطان کے تعلق سے اپنی جو رائے ظاہر کی ہے، وہ تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ ٹیپو سلطان کو محض ان کے مذہب کی وجہ سے ایک ولن بنا کر پیش کرنا اور ان کی حب الوطنی کو مشکوک قرار دینا دراصل اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو انگریزوں کی ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی پر آج بھی گامزن ہے۔
آج جو لوگ ٹیپو سلطان کو ہندو مخالف، ملک مخالف یا متعصب مذہبی شخص قرار دے رہے ہیں، انہیں شاید اپنی ہی پارٹی کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ یہ وہی بی جے پی ہے جس کے رہنما 2014 سے پہلے ٹیپو سلطان کی ’جینتی‘ مناتے تھے اور کرناٹک اسمبلی میں ان کی شان میں قصیدے پڑھتے تھے۔ جگدیش شیٹر جیسے وزرائے اعلیٰ نے ٹیپو سلطان کی بہادری کا اعتراف کیا، لیکن جیسے ہی سیاسی ہوائیں تبدیل ہوئیں، تاریخ کو دیکھنے کا ان کا نظریہ بھی بدل گیا۔ یہ دوہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ تنازعہ کا تاریخ یا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ محض سیاسی روٹیاں سینکنے اور سماج میں مذہبی منافرت کا زہر گھولنے کی ایک گھٹیا کوشش ہے۔ مالیگاؤں میں ایک پوسٹر پر شروع ہونے والا ہنگامہ دراصل مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔ جب حکمراں طبقے کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں ہوتا تو وہ مردہ ایشوز کو اکھاڑ کر عوام کو جذباتی نعروں میں الجھانے کی کوشش کرتی ہے، اور ٹیپو سلطان کا معاملہ اسی سازش کا حصہ ہے۔
اس ضمن میں مشہور محقق سنجے سوناؤنے نے مراٹھی صحافی پرشانت کدم کے ساتھ بات چیت میں جو تجزیہ پیش کیا ہے، وہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کی قلعی کھول دیتا ہے۔ سوناؤنے نے کہا ہے کہ ٹیپو سلطان کی زندگی میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا جس کی بنیاد پر انہیں ہندو مخالف یا ملک دشمن قرار دیا جا سکے۔ جو لوگ آج ان پر الزامات لگا رہے ہیں، وہ دراصل ان من گھڑت کہانیوں پر یقین کر رہے ہیں جو انگریز افسروں نے شیرِ میسور کو بدنام کرنے کے لیے لکھی تھیں۔ انگریزوں کے لیے ٹیپو سلطان ہندوستان میں ان کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے، اس لیے دشمن کو بدنام کرنا ان کی جنگی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیپو سلطان کے وزیر اعظم ’پورنیہ‘ ایک ہندو برہمن تھے اور ان کی فوج اور انتظامیہ میں بے شمار ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ اگر ٹیپو سلطان واقعی متعصب مذہبی ہوتے تو کیا وہ ایک ہندو کو اپنی ریاست کا سب سے اہم عہدہ سونپتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب دینے سے فرقہ پرست طاقتیں کترا رہی ہیں کیونکہ سچائی ان کے بیانیے کو پاش پاش کر دیتی ہے۔
ٹیپو سلطان کی رواداری اور سیکولر سوچ کا سب سے بڑا ثبوت شنگیری مٹھ کا واقعہ ہے۔ جب مراٹھا فوج کے کچھ غیر ذمہ دار عناصر نے حملہ کرکے شنگیری کے مٹھ کو نقصان پہنچایا تھا، تو یہ ٹیپو سلطان ہی تھے جنہوں نے نہ صرف اس حملے کی شدید مذمت کی بلکہ مٹھ کی مرمت اور بحالی کے لیے بھاری مالی امداد بھی فراہم کی۔ شنکر آچاریہ کے نام ان کے 50 سے زائد خطوط آج بھی تاریخ کے ریکارڈ میں موجود ہیں جو ان کے احترام اور عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے اپنی ریاست میں درجنوں مندروں کو سالانہ وظائف دیے اور کبھی اپنی رعایا کے درمیان مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا۔ ان کے لیے حکمرانی کا اصول انصاف اور فلاح پر مبنی تھا، نہ کہ مذہبی تعصب پر۔ آج جو لوگ سیاسی مقاصد کے لیے ان کے خلاف بیان بازیاں کر رہے ہیں، وہ جان بوجھ کر ان تاریخی دستاویزات اور شواہد کو نظر انداز کر رہے ہیں جو ٹیپو سلطان کو ایک انصاف پسند اور روادار حکمران کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
تاریخی تناظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ 18 ویں صدی کا ہندوستان آج کے ’نیشن اسٹیٹ‘ کے تصور سے مختلف تھا۔ اس دور میں ہر حکمران اپنی ریاست کے دفاع اور توسیع کے لیے جنگیں لڑتا تھا۔ اگر ٹیپو سلطان نے کچھ جنگیں ہندو راجاؤں کے خلاف لڑیں تو انہوں نے نظام حیدرآباد جیسے مسلم حکمرانوں کے خلاف بھی تلوار اٹھائی۔ 1790 کی دہائی میں جب انگریزوں، نظام اور پیشواؤں نے مل کر ٹیپو کے خلاف اتحاد بنایا، تو یہ جنگ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اور علاقائی مفادات کی جنگ تھی۔ نظام ایک مسلمان ہونے کے باوجود انگریزوں کا حلیف بنا، جبکہ ٹیپو سلطان تن تنہا انگریز سامراج کے خلاف ڈٹے رہے۔ ایسے میں ٹیپو سلطان پر مذہبی تعصب کا الزام لگانا تاریخ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ وہ ایک ایسے حکمران تھے جو جانتے تھے کہ انگریز اس ملک کے لیے غیر ملکی سوداگر نہیں بلکہ غلام بنانے والے آقا ہیں، اسی لیے انہوں نے فرانسیسیوں سے روابط بڑھائے اور سلطنت عثمانیہ تک سے مدد طلب کی تاکہ ہندوستان کو فرنگیوں کے تسلط سے بچایا جا سکے۔
ٹیپو سلطان کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی جدیدیت پسندی اور ترقی پسند سوچ ہے۔ وہ محض ایک جنگجو نہیں تھے بلکہ ایک ایسے ویژنری حکمران تھے جنہوں نے میسور کو معاشی اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے چین سے ریشم کے کیڑے منگوائے تاکہ میسور میں ریشم کی صنعت قائم ہو سکے اور جب انہیں ماہر کاریگروں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے مہیشور کی حکمران اہلیا بائی ہولکر سے رابطہ کیا۔ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ایک طرف فرقہ پرست عناصر ٹیپو کو ہندو دشمن کہتے ہیں اور دوسری طرف تاریخ بتاتی ہے کہ کٹر ہندو روایات کی پاسدار اہلیا بائی ہولکر نے ٹیپو کی مدد کے لیے اپنے کاریگر بھیجے۔ ٹیپو سلطان نے اہلیا بائی کو ’تتوگیہ مہارانی‘ (فلسفی ملکہ) کا خطاب دیا، جو ان کے باہمی احترام کا ثبوت ہے۔ یہ تعلق اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس دور کے حکمران ایک دوسرے کو مذہب کی عینک سے نہیں بلکہ قابلیت اور تعاون کی نظر سے دیکھتے تھے۔
عسکری میدان میں ٹیپو سلطان کی ایجادات، خاص طور پر راکٹ ٹیکنالوجی، نے دنیا بھر کو حیران کر دیا تھا۔ وہ پہلے ہندوستانی حکمران تھے جنہوں نے جنگ میں اسٹیل کے خول والے راکٹ استعمال کیے، جنہیں دیکھ کر انگریز فوجیں بھی لرز اٹھتی تھیں۔ ان کی جدید سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فرانس کے جیکوبن کلب کے رکن تھے اور عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی بحریہ کو مضبوط کیا اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے کسانوں اور تاجروں کو خوشحال کیا۔ ان کی شہادت کے بعد جب انگریزوں نے ان کے خزانے پر قبضہ کیا تو ان کے ذاتی سامان سے ایک انگوٹھی ملی جس پر ہندی رسم الخط میں ’رام‘ لکھا ہوا تھا۔ ایک ایسا مسلمان حکمران جو مرتے دم تک ’رام‘ نام والی انگوٹھی پہنتا ہو، اسے مذہبی جنونی کہنا نہ صرف جہالت ہے بلکہ ایک عظیم مجاہد کی توہین ہے۔ یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ ٹیپو سلطان ایک کثیر الجہتی شخصیت تھے جن کا مقصد صرف اور صرف اپنی ریاست کی ترقی اور آزادی تھا۔
آج ہمارے ملک میں ایک عجیب تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف وہ نام نہاد قوم پرست ہیں جنہوں نے جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا، معافی نامے لکھے اور 1942 کی تحریک میں شامل ہونے سے انکار کیا، اور دوسری طرف وہ ٹیپو سلطان جیسے شیر دل حکمران کی حب الوطنی پر سوال اٹھا رہے ہیں جس نے انگریزوں کے سامنے جھکنے کے بجائے میدان جنگ میں موت کو گلے لگانا پسند کیا۔ ٹیپو کا یہ جملہ کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے‘‘ آج بھی حریت پسندوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دیا، اپنی سلطنت قربان کر دی، لیکن انگریزوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہرش وردھن سپکال اور کانگریس کے دیگر رہنماؤں نے اگر ان کا موازنہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی بہادری سے کیا ہے، تو اس کا مقصد ان کے جذبہ حریت کو سلام پیش کرنا ہے کیونکہ دونوں ہی حکمرانوں نے اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے غیر ملکی طاقتوں کا منہ توڑ جواب دیا۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ کانگریس پارٹی ہر اس مجاہد کا احترام کرتی ہے جس نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنا خون بہایا ہے۔ ٹیپو سلطان ہماری مشترکہ تاریخ اور ورثے کا حصہ ہیں، ان کی قربانیوں کو کسی خاص مذہب کے خانے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کی جانب سے تاریخ کو مسخ کرنے کی یہ کوششیں دراصل نوجوان نسل کو گمراہ کرنے اور سماج کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ ہمیں ان سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا اور تاریخ کو غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔ ٹیپو سلطان میسور کے شیر تھے اور رہیں گے، ان کی تصویر کو پھاڑنے یا ان کے پتلے جلانے سے ان کی عظمت کم نہیں ہوگی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماضی کے ان ہیروز سے سبق سیکھیں جنہوں نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ہمیں آزادی کا راستہ دکھایا۔